Wildfire in Turkey : President Erdogan says government to rebuild damaged houses

استنبول:(اے یو ایس )ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ترکی کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے متاثر ہونے والے علاقوں کا فضائی دورہ کیا اور نقصانات کا جائزہ لیا ہے۔انھوں نے مناواجات شہر میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک حکومت آگ سے بے گھر ہونے والے افراد کے کرائے برداشت کرے گی اور ان کے گھروں کی تعمیرنو کرے گی۔انھوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کے لیے ٹیکس، سماجی تحفظ اور کریڈٹ کی ادائی ملتوی کردی جائےگی اور چھوٹے کاروباری اداروں کو بلاسود قرضوں کی پیش کش کی جائے گی۔انھوں نے بتایاکہ آگ پر قابو پانے کی امدادی سرگرمیوں میں شریک طیاروں کی تعداد چھ سے بڑھا کر 13 کر دی گئی ہے۔ان میں یوکرین،روس،آذربائیجان اور ایران کے طیارے بھی شامل ہیں اور ہزاروں ترک اہلکار اور درجنوں ہیلی کاپٹر اور ڈرون آگ بجھانے کی کوششوں میں شریک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکام آتش زدگی میں ’تخریب کاری‘کے امکان کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ترک حکام نے کردعلیحدگی پسندوں پر جنگلوں میں آگ لگانے کا الزام عائد کیا ہے۔جنگلاتی آگ سے لاحق خطرات کے پیش نظر بحیرہ ایجیئن کے کنارے واقع بودرم ریزارٹ سے غیرملکی سیاحوں کو کشتیوں کے ذریعے نکال لیا گیا ہے۔اس ریزارٹ میں واقع ہوٹلوں میں بیسیوں ملکی اور غیرملکی سیاح مقیم تھے۔اس کے نزدیک واقع جنگل میں آگ پھیلنے کے بعد حکام نے سیاحوں کو ہوٹل خالی کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد وہ سمندر کے کنارے پہنچ گئے اور وہاں سے انھیں کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کردیا گیا ہے۔سیاحوں کی منتقلی کی اس کارروائی میں ترکی کے کوسٹ گارڈ نے حصہ لیا ہے۔حکام نے نجی ملکیتی کشتیوں اور یاٹس سے بھی سیاحوں کے انخلا کی کوششوں میں مدد کی اپیل کی تھی۔ترکی کے وزیرصحت نے بحرمتوسط (بحیرہ روم) کے کنارے واقع قصبوں میں جنگل کی آگ سے چھے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ آگ سے محکمہ جنگلات کے دوکارکن ہلاک ہوگئے ہیں اور آگ سے متاثرہ چارسوسے زیادہ افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ترکی میں بحرمتوسط کے کنارے واقع علاقوں اور جنگلوں میں بدھ کو آگ لگی تھی اور اس نے بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔اس سے اب تک متعدد جنگل اور بستیاں جل چکی ہیں اور دیہات اور سیاحتی مقامات کو لوگوں سے خالی کرایا جارہاہے۔وزیر زراعت و جنگلات بکیرپاک دیمیرلی نے بتایا ہے کہ تیزہواو¿ں اور شدید گرمی کے سبب 98 مقامات پر لگنے والی آگ میں سے 88 جگہوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ترکی کی ایمرجنسی اورڈیزاسٹر اتھارٹی نے پانچ صوبوں میں آگ سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔واجات میں آتش زدگی سے پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مارمریس میں ایک شخص فوت ہوا ہے۔ یہ دونوں قصبے بحرمتوسط کے کنارے واقع ہیں اور مشہورسیاحتی مقامات ہیں۔واضح رہے کہ سیاحت ترکی کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور مختلف کاروباروں کے مالکان امید کر رہے تھے کہ یہ موسم گرما گذشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع بخش ثابت ہوگا کیونکہ گذشتہ سال کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مختلف حکومتوں کی عائد کردہ سفری پابندیوں کی وجہ سے سیاحتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔