Russian, Uzbek militaries begin joint Afghan border drills

کابل: روس اور ازبکستان نے ان خدشات کے پیش نظر کہ افغانستان کی بگڑتی صورت حال وسطی ایشیا پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے دوشنبہ سے افغان سرحد کے قریب مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دیں۔

روس نے کہا کہ اس پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشقوں میں ،جو کہ ازبکستان میں ترمیز فوجی مقام پر کی جارہی ہیں، 1500روسی اور ازبیک فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ روس افغانستان سے درپیش خطرے کو کتنی سنجیدگی سے لے رہا ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ وہ علیحدہ سہ فریقی فوجی مشقوں میں مزید بڑافوجی جتھہ تاجکستان بھیجے گا۔

توقع ہے کہ یہ علیحدہ مشقیں 5تا 10اگست ہوں گی اور اس میں روسی، تاجک اور ازبیک فوجیں حصہ لیں گی۔ ازبیکستان نے سوموار کو ہی اعلان کر دیا تھا کہ اس کا فوجی یونٹ تاجکستان پہنچ چکا ہے۔واضح ہوکہ امریکی فوجوں کے چلے جانے سے افغانستان میں سلامتی کے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔اور روس کو خطرہ ہے کہ اس سے خود اسے نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کا جنوبی دفاعی بازو غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور پناہ گزینوں کا اس کے وسطی ایشیائی علاقہ میں بڑے پیمانے پر داخلہ ہو سکتا ہے۔

پیر کے روز روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ تاجک فوجی مشقوں میں اس کے ایک ہزار کے بجائے 1800فوجی حصہ لیں گے ۔ اس سے قبل1000فوجی بھیجنے کا ہی منصوبہ تھا۔مجموعی طور پر ان مشقوں میں2500سے زائد فوجی حصہ لیں گے۔