UN mission in Afghanistan calls for probe into attack on compound

کابل: اقوام متحدہ کے امدادی مشن افغانستان ( یو این اے ایم اے )نے طالبان سے ہیرات صوبے میں اپنے مرکزی احاطے پر ہوئے حملے کے بارے میں جواب طلب کیا ہے اور ساتھ ہی اس حملے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس حملے میں ایک افغان پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دیگر زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ یو این اے ایم اے کے مطابق 30 جولائی کو ان کے احاطے پر راکٹ حملہ ہوا اور اندھا دھند فائرنگ بھی کی گئی۔ یہ سب اس وقت ہوا جب افغان فوج نے صوبہ ہیرات میں طالبان دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

یو این نے ایم اے نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ طالبان نے ان کے احاطے میں تعینات محافظوں کو قتل کردیا۔ اس کے لیے اسے ذمہ داری لینی ہوگی۔ اس حملے میں اقوام متحدہ کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا تھا۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ڈیبرا لیونز کا کہنا ہے کہ اس حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے اس حملے میں ہلاک ہونے والے افغان گارڈز کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی حملے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔لیونز نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اس حملے کے مجرموں کی نشاندہی کی جانی چاہئے اور انہیں قواعد کے مطابق سزا دی جانی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اقوام متحدہ کے ملازمین اور ان کے احاطے پر حملہ پوری سے سختی سے منع ہیں۔ اس طرح کے واقعات کو جنگی جرائم میں شمار کیا جا سکتا ہے۔قابل غور ہے 28 جولائی سے ہی ہیرات صوبے میں افغان اور طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔طالبان ان پر قبضہ کرنے کے لیے پوری قوت لگا رہے ہیں۔ مسلسل چار دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں کئی عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکہ کو افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور خاص طور پر سویلین امدادی اداروں پر حملوں پر شدید تشویش ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کا مشن فی الحال اس حملے میں بارے میں ثبوت اور شواہد جمع کر رہا ہے ، اس کو لیکر وہ متعلقہ فریقوں سے بھی رابطے میں ہیں۔