At least 8 killed, 20 wounded in attack on acting Defense Minister's house

کابل: نگراں وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی کی رہائش گاہ کے قریب ایک کار بم دھماکہ میں کم از کم 8افرا دہلاک اور20سے زائد دیگر زخمی ہو گئے۔ وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق ہلاک شدگان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ یہ حملہ کابل کے ڈسٹرکٹ10میں شیر پور علاقہ میں رات تقریباً8بجے کیا گیا۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں زیادہ تر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی رہائش گاہیں ہیں۔سب سے پہلے محمدی کی رہائش گاہ کے قریب کار بم دھماکہ ہوا اور اس کے بعد چار بندقوق بردار نمودار ہوئے اور ایک قریبی مکان میں داخل ہو گئے اور سیکورٹی گارڈز سے بھڑگئے۔

حملے کے فوراً بعد سلامتی دستے جائے وقعہ پہنچ گئے ۔وہاں ایمبولنسوں کو بھی دوڑتے دیکھا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ دھماکہ کے تھوڑی دیر بعد تین حملہ آور بغلان کے ممبر پارلیمنٹ محمد عظیم محسنی کی رائش گاہ میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں محمدی کے گھر پر تعینات ایک سیکورٹی گارڈ بھی شامل ہے۔ دوسرا گارڈ زخمی ہے۔ جس وقت یہ حملہ کیا گیا تو محمدی اور ان کے اہل و عیال گھر پر نہیں تھے۔جس مقام پر کار بم دھماکہ کیا گیا وہاں کچھ ارکان پارلیماں اور افغان کمانڈو کے کمانڈر ہبت اللہ علی زئی کے مکانات بھی واقع ہیں۔ طالبان نے ایک بیان جاری کر کے اس دھماکے کی ذمہ داری لی ہے۔