PDM a dead horse

قادر خان یوسف زئی

پی ڈی ایم اتحاد نے کراچی میں ہونے والا 13اگست کا جلسہ کورونا وبا کی وجہ سے موخر کردیا،اگر کورونا وبا کا بڑھتا دباؤ نہ بھی ہوتا تو پی ڈی ایم میں حکومت کو پریشان کرنے کی کوئی سکت نہیں رہی، پاکستان ڈیمو کرٹیک موومنٹ عملی طور پر ختم ہوچکی اور ان کے بیاینے کو دھچکا پہنچ چکا۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی اختلافات نے حکومتی اقتدار کو مضبوط کیا اور بادی النظرآئینی مدت پوری کرنے سنہراموقع فراہم کیا۔ پی پی پی اور پی ایم ایل ن کے درمیان عدم اعتماد کی فضا نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ اس حوالے سے کسی ایک سیاسی جماعت کو مورد ِ الزام ٹھہرانا مناسب معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ جب پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی جارہی تھی، تو حالات و واقعات یہی بتا رہے تھے کہ بہت جلد بڑی جماعتوں میں چپقلش بڑھے گی، ٹھوس لائحہ عمل کو مرتب کرنے میں سوچ بچار سے کام نہیں لیاگیا اور روایتی طور پر گمان کرلیا گیا کہ صرف سیاسی ورکرز کے جلسوں اور ریلیوں میں شرکت سے حکومت وقت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ دھرنوں، جلسے جلوسوں اور ریلیوں کے پر امن طریقے سے کسی بھی حکومت کو گرانا،ناممکن ہوتا ہے، تاہم دباو¿ ضرور پڑتا ہے لیکن اس نفسیاتی جنگ میں جیت اسی کی ہوتی ہے جس کی’پشت‘ مضبوط ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی نے ن لیگ کی حکومت کو اکھاڑنے کے لئے طویل ترین دھرنا دیا تھا، سول نافرمانی کی تحریک سمیت ہر آپشن کا استعمال کیا، لیکن نواز حکومت کو ٹس سے مس نہیں کرسکی تھی۔ پی ٹی آئی کے لئے سب سے زیادہ پریشان کن عمل تب ہوتا جب عوام بھی احتجاج میں شریک ہوتی اور ملک میں سیاسی بے یقینی کی صورت حال میں کسی ممکنہ تبدیلی کے لئے اپنا حصہ ڈالتے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی کارکردگی اتنی آئیڈیل کبھی نہیں رہی کہ ان کی کمر مہنگائی، بے روزگاری اور کرونا وبا نے توڑ رکھی ہے، انہیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اس لئے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی سے ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑنے والا، ورنہ یہی عوام تھی کہ جب چینی کی قیمت میں چار آنے کا اضافہ ہوا تو سراپا احتجاج بنی اور حاکم وقت کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ پی ڈی ایم مربوط حکمت عملی کے بغیر میدان میں اتری،اجتماعی استعفوں کی سیاست میں ٹائمنگ کا خیال نہیں رکھا گیا اور اتحادی جماعتوں بالخصوص پی پی پی کے ساتھ اعتماد کی فضا میں بے اعتباری کو دور کرنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔ سیاست فروعی مفادات کے تحت چلتی رہی اور بڑی جماعتیں یلیف کے لئے اپنے بیاینے میں تبدیلی کرتی رہی، پی ایم ایل ن کی قیادت نے جارحانہ پالیسی اپنائی اور اپنے سخت بیانیہ سے پی ڈی ایم کی جماعتوں میں ہراس پیدا کردیا۔ پسند و ناپسند کی سیاست میں اپنے اتحادیوں کو کم تر سمجھے جانا لگا۔پی پی پی کی سیاست مفاہمت کی سیاست رہی ہے، وہ کچھ دو اور کچھ لو کی کامیاب پالیسی پر اپنی سیاست کو چلاتی ہے، لیکن ن لیگنے جارحانہ پالیسی اختیار کی اور ریاست مخالفت میں اپنی حدود سے قدرے تجاوز کیا۔ مولانا فضل الرحمن دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے، لیکن جب سینیٹ الیکشن میں ان کے امیدوار نے ساتھ ہاتھ ہوگیا تو وہ بھی سمجھ گئے کہ وہ پی ڈی ایم کا جنازہ ڈھونے کے لئے ان کے کندھے استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔

پی پی پی اپنی مفاہمت کی سیاست میں اتنی آگے چلے گئی کہ اس کی واپسی نواز شریف کی واپسی سے مشروط ہوگئی، جس نے پی ڈی ایم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ گلگت بلتستان الیکشن میں پی پی پی اور ن لیگ جس طرح آمنے سامنے ہوئے، اس نے پی ٹی آئی کو میدان مارنے کا موقع فراہم کردیا، کشمیر میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال بنی اور پی ٹی آئی کو اپنے کارڈ کھیلنے سے روکنے والا کوئی سامنے نہیں تھا۔ اس وقت پنجاب کی ایک ضمنی نشست پر پی ایم ایل ن کی سیاست پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں اور اندرونی اختلافات کی کہانیوں کے ذریعے مرکزی قائدین کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے کے لئے’مخصوص طریقے‘سے کام کیا جارہا ہے۔ یہی ن لیگ تھی جس نے پی ٹی آئی کو اس کے گھر میں بار بار شکست دی اور پے در پے ضمنی انتخابات میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے، اب صرف ایک ضمنی ہار سے، جس کے ووٹ عام انتخابات سے بھی زیادہ پڑے ہوں، فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ پی ایم ایل ن کا وجود ختم ہوچکا۔ ن لیگ تمام تر اندرونی چیلنجوں کے ساتھ اب بھی ٹف ٹائم دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، پی پی پی کا یہ کہنا کہ اگر ن لیگ چاہے تو پنجاب حکومت کو گرایا جاسکتا ہے، اس اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ ن لیگ میں سیاسی اختلاف رائے ایک معمول کا حصہ ہے، اگر ن لیگ کے ہاتھ پیر کھول دیئے جائیں تو پنجاب اور بلوچستا ن کی حکومت سمیت گلگت بلتستان اورکشمیر میں پی ٹی آئی کا چلنا مشکل ہوسکتا ہے۔

سیاسی پنڈت تسلیم کرتے ہیں کہ(ن)لیگ کو جکڑا ہوا ہے اور سیاسی طور پر ملک میں ایک جماعتی نظام لانے کی کوشش ہو رہی ہے، لیکناتنا بڑا بوجھ اٹھانے کے لئے پی ٹی آئی قطعی اہلیت نہیں رکھتی۔ انتخابی ٹکٹوں پر جس طرح تحریک انصاف کے قائدین تیزی سے فیصلے بدل لیتے ہیں اور اب تک جتنے فیصلوں میں یو ٹرن لیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کو بھاری مینڈیٹ ملنا، ان کے اکیلے بس کا کام نہیں۔ ان سے تو شوگر مافیا اور کرپشن سمیت اقربا پروری کے معاملات ہی کنٹرول نہیں کئے جاسکے، جس کا انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا، بھلا وہ کس طرح مانگے تانگے سے بنی حکومت سے کسی بڑی تبدیلی لانے کی قابلیت رکھ سکتی ہے۔ جس طرح پی ٹی آئی نے وزرا کے قلم دان اور بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کی ہے، اتنے جلدی تو نئی شیروانیاں بھی نہیں سلائی جاتیں۔ پی ڈی ایم کو اب نئے انتخابات کے لئے اپنی جماعتوں میں جمہوریت کے فروغ کے لئے کام شروع کردینا چاہے، نظریاتی کارکنوں اور عہدے داروں کو اہمیت دے کر علاقائی سطح پر عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور عوام میں گھل ملنے کی پالیسی اپنالینی چاہے۔ حکومت گرانا اب ان کے بس کی بات نہیں رہی۔