India men's hockey team beats Germany 5-4 to win bronze

(سید اجمل حسین،اردو تہذیب)

جہاں ایک جانب اولمپک کی تاریخ میں خواتین کے ہاکی مقابلوں میں کبھی کوئی میڈل نہ جیتنے اور 36سال کے طویل انتظار کے بعد کسی اولمپک کے خواتین ہاکی مقابلوں کے لیے کوالی فائی کرنے والے ہندوستان کو ہاکی کے خواتین زمرے میں اپنے سے کہیں مضبوط اور گولڈ میڈل کی دعویداروں میں سے ایک آسٹریلیا کو شکست دے کر پہلی بار کسی اولمپک کا سیمی فائنل بھی کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا وہیں دوسری جانب ہندوستان نے 41سال کے طویل انتظار کے بعد مردوں کی ہاکی میں چار بار کے گولڈ میڈلسٹ جرمنی کوچار کے مقابلہ 5گول سے شکست دے کر کانسے کا تمغہ جیت کر ہندوستانی ہاکی کی تاریخ میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ کر دیا۔ہندوستان کی جانب سے سمرنجیت سنگھ نے 17ویں اور 34ویں منٹ میں، ہاردیک سنگھ نے 27ویں، ہرمن پریت سنگھ نے 29ویں اور روپندر پال سنگھ نے 31ویں منٹ میں گول کیا۔کھیل شروع ہوتے ہی جرمنی نے ہندوستان پر زبردست جارحانہ حملہ کیا اور پلک جھپکتے میں ہندستان کی ڈی میں داخل ہو گئے اور دوسرے منٹ میں ہی اوروٹ ٹی نے میدانی گول داغ کر جرمنی کو ایک صفر سے برتری دلادی۔ لیکن دوسرے ہاف میں سمرن جیت سنگھ نے17ویں منٹ میں گول داغ کر اسکور 1-1کر دیا۔لیکن ابھی گول کرنے کی خوشیاں منائی ہی جارہی تھیں کہ جرمنی نے جوابی حملہ کر دیا اور سات منٹ بعد ہی این ویلن نے گول کر کے سکور جرمنی کے حق میں2-1کر دیا۔ ہندوستان ابھی اس جھٹکے سے سنبھلا بھی نہیں تھا کہ بی فرک نے میدانی گول کر کے اسکور3-1کر دیا۔ جس سے مایوس ہو کر پہلی بار ہندوستانی کھلاڑیوں کے چہرے مرجھائے نظر آئے۔لیکن ہندوستانی کھلاڑیوں نے بہت جلد خود پر قابو پالیا اور اپنے اوسان برقرار رکھتے ہوئے آر پار کی لڑائی شروع کر دی اور آخر کار اس کا نتیجہ 27ویں اور29 ویں منٹ میں ہاردیک اور پھر ہرمن پریت سنگھ نے پنالٹی کارنر سے گول کر کے اسکور3-3سے برابر کر دیا۔

اس برابری سے ہندوستانی کھلاڑیوں کے حوصلے ایسے بلند ہوئے کہ تیسرے جکوارٹر کا آغاز بھی انہوں نے زبردست حملوں سے کیا اور تیزی سے ڈی میں داخل ہو کر پنالٹی اسٹروک حاصل کر لیا جسے روپندر پال سنگھ نے گول میں بدل کر اسکور4-3کر دیا۔ اور وہ ٹیم جو ایک وقت1-3سے پیچھے تھی 4-3سے آگے ہوگئی اور اس سے ہندوستانی کھلاڑیوں میں جیت کی امنگیں مزید جاگ اٹھیں اور 34ویں منٹ میں ہندوستان نے ایک اور زبردست حملہ کیا اور فارورڈوں اور مڈ فیلڈرز نے مل کر ایسا خوبصورت موو بنایا کہ جرمنی کا دفاع تتر بتر ہو گیا اور ڈی کے اندر داخل ہو کر سمرن جیت سنگھ نے اپنا دوسرا اور ٹیم کا پانچوں گول داغ کر ٹیم کو5-3سے ایسی سبقت دلادی کہ جرمنی سر دھڑ کی بازی لگا کر بھی اسے ختم نہ کر سکا اور ہندوستانی دفاع نے زبردست دفاع کا مظاہرہ کر کے اپنی اس برتری کو قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی اور اپنی اس برتری کو چوتھے کوارٹر تک لے جانے یں کامیاب ہو گئے لیکن چوتھے کوارٹر میں بھی ہندوستانی کھلاڑیوں نے صرف دفاع پر ہی توجہ مرکوز رکھی اور حملے کر کے جرمن کھلاڑیوں کو ہراساں نہ کیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرمن کھلاڑی ہندوستان کی ڈی میں داخل ہو ہو کر پنالٹی کارنر یا پنالٹی اسٹروک کی کوشش کرتے رہے اور آخر کار 48ویںمنٹ میں وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو گئے اور پنالٹی کارنر حاصل کر لیا۔ جس پر وینڈ فیدر نے گول کر کے فرق کم کر کے اسکور4-5کر دیا۔ اسمبرابری کے ساتھ ہپی جرمن کھلاڑیوں میںایسا جوش آیا کہ 60ویں منٹ میں جرمنی کو پھر پنالٹی کارنر مل گیا ۔لیکن گول کیپر شیر جیش نے آخری لمحات میں اس پنالٹی کارنر کو ناکام کر کے ہندوستان کے کانسہ کا تمغہ جیتنے کی امیدیں برقرار رکھیں۔ادھر میچ ختم ہونے کا بگل بجتے ہی اگر ٹیم انڈیا کے کھلاڑی رقص کر رہے تھے تو ہندوستان اور بیرون ملک ہندوستانی ہاکی شوقین تارکین وطن خوشی سے جھوم رہے تھے۔

مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہندوستان کو کانسہ کا تمغہ دلانے میں گول کرنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ گول کیپر شری جیش کا بھی زبردست ہاتھ رہا جنہوںنے پہلے کوارٹر میں ہی دو یقینی گول بچا کر ٹیم ک کی حوصلہ افزائی کی۔یہاں یہبات قابل ذکر ہے کہ جاپان کے دارالخلافہ ٹوکیو میں کھیل جانے والے اولمپک کھیلوں کے مردوں اور عورتوں کے ہاکی مقابلوں میں ریاست پنجاب کا ہی بول بالارہا۔ اگر خواتین ہاکی کے ہاتھوں انجام دیے جانے واے کارنامہ میں گورجیت کور کا زبردست ہاتھ رہا تو مردو ں کی ہاکی ٹیم کو جرمنی پر 5گول لاد کر شاندار فتح دلا کر کانسہ کا تمغہ سے ہندوستان کو سرفراز کرانے والے چا روں کھلاڑی سمرنجیت سنگھ (دو گول) ہاردیک سنگھ،ہرمن پریت سنگھ اور روپندر پال سنگھ بھی پنجاب کے ہی رہائشی ہیں۔خواتین ہاکی ٹیم کو سیمی فائنل تک لے جانے والی گورجیت کور نے، جس کے گھر والوں کا ہاکی سے کوئی دور دور تک تعلق نہیں تھا ،اپنے گھرانے کو ہاکی سے متعارف کرانے کا اعزاز پایا تو وہیں دوسری طرف مردوں کے ہاکی مقابلوں میں ہندوستان کو کانسہ کا تمغہ دلانے میں نمایاں کردار ادا کرنے والے کھلاڑیوں میں سے ایک ہاردیک سنگھ نے اپنے اس ہاکی خاندان میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑا کر 41سال پراننے اس خوشگوار واقعہ کی یادیں تازہ کردیں جب اس کے دادا کے چھوٹے بھائی گورمیل سنگھ نے ماسکو اولمپک میں ہندوستان کو گولڈ میڈل دلانے والی ہاکی ٹیم میں پنجاب کی نمائندگی کر کے ملک و ریاست کے ساتھ ساتھ اپنے اس ہاکی خاندان کا نام بھی روشن کیا تھا ۔واضح ہو کہ ہاردیک کے چچا جگراج سنگھ ہندوستان کے بہترین ڈریگ فلیکر تھے اور ان کی دادی راجبیر کور بھی ہندوستان کے لیے انٹرنیشنل ہاکی کھیل چکی ہیں۔خواتین ہاکی کی دنیا میں ہندوستان کا سر فخر سے بلند کرنے والی کھلاڑی گورجیت کور بھی اگر پنجاب کے میادی گاو¿ں کی رہائشی گورجیت کور کھیلوں یا ہاکی سے دلچسپی رکھنے والے کسی بہت بڑے گھرانے سے تعلق نہیں رکھتی تھی اور اس کے کنبہ کو ہاکی سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا تھا ۔لیکن ٹوکیو اولمپک میں گورجیت نے کھیل کے 20ویں منٹ میں گول داغ کر جو تاریخ مرتب کی ہے اس نے نہ صرف دنیائے ہاکی کو چونکا دیا بلکہ افق ہاکی پر گورجیت کور نام کا ایک دمکتا ستارہ بھی نمودار ہو گیا۔

راتوں رات دمکتے ستارے کی شکل میں ابھرنے والی25سالہ گورجیت کور کے والد کاشتکار ہیں اور ان کے نزدیک کھیلوں سے زیادہ اپنی بیٹی کی تعلیم پہلی ترجیح تھی۔گورجیت اور ان کی بہن پردیپ کور نے اپنی ابتدائی تعلیم میادی گاؤں کے قریب واقع ایک پرائیویٹ اسکول میں مکمل کی اور اس کے بعد انہیں ترن تارن کے ایک بورڈنگ اسکول میں داخل کرایا گیا جہاں انہیں ہاکی کا شوق ہو گیا ۔وہ دیگر لڑکیوں کو ہاکی کھیلتا دیکھ کر بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے بھی اپنی بہن کے ساتھ ہاکی کھیلنا شروع کر دیا۔جلد ہی دونوں بہنوں نے ہاکی می مہارت حاصل کر لی۔ جس کی وجہ سے انہیں وظیفہ ملنا شروع ہو گیا ۔اور اس کے تحت انہیں مفت اسکولی تعلیم اور مفت بورڈنگ مل گیا۔اس کے بعد گورجیت نے جالندھر کے لائل پور خالصہ کالج سے گریجویشن کی اور اس دوران وہ پانچ سال تک کالج کی اکیڈمی کی جانب سے کھیلتی رہیں۔