Islamabad court rejects bail application of parents of accused of Noor Muqaddam murder reject

اسلام آباد: (اے یوایس ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان کے سابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں دو شریک ملزمان ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔یہ دونوں ملزمان اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ہیں اور ان پر قتل میں مرکزی ملزم کی اعانت اور حقائق چھپانے کا الزام ہے۔نور مقدم کو ان کے دوست ظاہر جعفر نے 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں اپنے گھر پر قتل کر دیا تھا۔ پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے 20 جولائی کو ہی گرفتار کیا تھا جبکہ ا±ن کے والدین کی گرفتاری 25 جولائی کو عمل میں آئی تھی۔ضمانت کی ان درخواستوں کو خارج کرنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے ایڈشنل سیشن جج محمد سہیل نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم ظاہر ذاکر نے نور مقدم کا قتل کیا اور اس قتل کی تفتیش کے دوران مزید کردار سامنے آئے ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا کہ ملزم ذاکر جعفر نے مرکزی ملزم کی مدد کی، جان بوجھ کر حقائق چھپائے اور پولیس کو واقعہ کی بروقت اطلاع نہیں دی جو کہ نتیجتاً مرکزی ملزم کو قتل کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ قتل کے بعد شواہد چھپانے کی بھی کوشش کی گئی، ریکارڈ کے مطابق ملزم نے نور مقدم کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بہیمانہ قتل کیا اور ان کا سر دھڑ سے جدا کر دیا۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم اور اس کے والد کے درمیان کالز کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے ذاکر جعفر بھی جرم میں شریک ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ استغاثہ کے مطابق ملزم قتل کی واردات کے دوران اپنے بیٹے سے مسلسل رابطے میں تھے اور ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو قتل میں شریک ثابت کرنے کے لیے ریکارڈ پر کافی مواد موجود ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا کوئی مواد ریکارڈ پر موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرتا ہو کہ ملزمان اور مدعی پارٹی میں کوئی دشمنی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ان دونوں شریک ملزمان (والدین) نے سنگین نوعیت کے جرم میں معاونت کی اور وہ ضمانت کے مستحق نہیں ہیں۔عدالتی کارروائی کے دوران ضمانت کی درخواستوں کے حق میں ملزمان کے وکیل رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وقوعہ کی رات ساڑھے گیارہ بجے مقتولہ کے والد شوکت مقدم کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے پہلے روز ہی ان کے موکل نے نہ صرف اس واقعہ کی کھلے عام مذمت کی تھی بلکہ اس حوالے سے انھوں نے اخبار میں اشتہار بھی دیا تھا جس میں واقعہ کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اس واقعہ میں ملوث مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ساتھ اس قتل کی حد تک لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ان کے موکل ذاکر جعفر نے تو یہ بات کھلے عام کی تھی کہ وہ قتل کے اس واقعہ کے بعد مقتول خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، اپنے بیٹے کے ساتھ نہیں۔رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ پولیس نے جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم ظاہر جعفر سے لیے گئے بیان کی روشنی میں ان کے موکل اور ان کی اہلیہ کو شامل تفتیش کیا۔انھوں نے کہا کہ ملزم ذاکر جعفر کو نہیں پتہ تھا کہ ان کے گھر میں کوئی ایسا کام ہو رہا ہے جو کہ خلاف قانون ہے۔ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے پولیس کو کون سی معلومات غلط دیں اور کون سے ثبوت چھپائے، اس بارے میں پولیس کے ریکارڈ پر کچھ بھی موجود نہیں ہے۔رضوان عباسی نے سوال اٹھایا کہ کیا عصمت آدم جی کا اپنے بیٹے ظاہر جعفر سے رابطہ ہونا جرم ہے؟ انھوں نے کہا کہ یہ تو معمول کا رابطہ تھا جبکہ پولیس کے ریکارڈ میں ملزمان کے درمیان اسکرپٹ، کال، وائس میسج یا واٹس ایپ میسج کچھ موجود نہیں ہے۔اس مقدمے کے سرکاری وکیل نسیم ضیا کا کہنا تھا کہ جس وقت نور مقدم مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی تحویل میں تھی تو اس وقت ملزم کی والدین کے ساتھ بات ہو رہی تھی لیکن ملزم کے والدین نے اس بارے میں پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ جب گھریلو ملازم جمیل نے بھی ملزم ذاکر جعفر اور ملزمہ عصمت آدم جی کو کال کی تھی تو اس وقت ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کو قتل کر رہا تھا اور ان دونوں ملزمان نے پولیس کو مطلع کرنے کی بجائے تھراپی سینٹر والوں کو فون کیا۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان دونوں ملزمان نے بددیانتی کی بنیاد پر اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ جائے حادثہ سے جو پستول برآمد ہوا ہے وہ بھی شریک ملزم ذاکر جعفر کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزمان ظاہر جعفر، ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کے زیر استعمال موبائل فون میں کالز کا ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان تینوں کے درمیان متعدد بار ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا اور یہ رابطے نور مقدم کے ملزم ظاہر جعفر کی تحویل میں ہونے اور قتل ہونے کے بعد تک جاری رہے تھے۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ان دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کیا جانا چاہیے۔اس مقدمے کے مدعی اور مقتولہ کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے پولیس کی موجودگی میں اپنی بیٹی کی لاش کو دیکھا جس کا سر ملزم نے دھڑ سے جدا کر دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ موبائل ڈیٹا سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ دونوں ملزمان اپنے بیٹے کے ساتھ رابطے میں تھے۔شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ان دونوں ملزمان سے جب گھریلو ملازم جمیل نے رابطہ کیا تو ان دونوں نے اس سے یہ نہیں کہا کہ وہ جا کر پولیس کو اطلاع دے حالانکہ نزدیک ترین پولیس ا سٹیشن آدھا کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے۔مدعی مقدمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کا یہ اقدام اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ دونوں ملزمان قتل کی اس واردات میں برابر کے شریک ہیں۔

انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان دونوں ملزمان کی ضمانتوں کی درخواستوں کو مسترد کیا جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اس مقدمے میں اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور یہ پانچوں ملزمان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔نور مقدم قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وقوعہ کے روز ملزم ظاہر جعفر اور شریک ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی نے جن جن افراد کے ساتھ رابطے کیے تھے ان میں سے اکثریت کے ساتھ رابطہ ہوا ہے اور اس ضمن میں ان کے بیان بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کچھ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں بھی لیا گیا ہے تاہم اہلکار نے ان افراد سے ہونے والی تفتیش کے بارے میں بتانے سے گریز کیا۔پولیس اہلکار کے مطابق جائے واردات پر مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے بعد اگر کسی کا کردار اب تک کی تفتیش میں سامنے آیا ہے تو وہ چوکیدار افتخار ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب نور مقدم نے اپنی جان بچانے کے لیے اوپر سے چھلانگ لگائی تھی تو اس وقت افتخار گھر پر موجود تھا اور ملزم ظاہر جعفر نے افتخار کو اوپر والے کمرے سے آواز دی کہ باہر کا دروازہ بند کر دو اور اسے (نورمقدم) باہر نہیں جانے دینا۔تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق افتخار نے نہ صرف دروازہ بند کر کے نور مقدم کو باہر جانے سے روکا بلکہ نور مقدم کو دوبارہ کمرے میں لے جانے کے لیے ظاہر جعفر کی مدد بھی کی۔انھوں نے کہا کہ اگر افتخار دروازہ کھول دیتا تو نور مقدم وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی جس سے اس کی جان بچ سکتی تھی۔ملزم افتخار بھی اس مقدمے میں شریک ملزمان میں شامل ہے اور وہ بھی ان دنوں اڈیالہ جیل میں ہے۔اہلکار کے بقول پولیس اب تک اس راہگیر کو تلاش نہیں کرسکی جس نے علاقے میں پیٹرولنگ کرنے والی پولیس کی ٹیم کو آگاہ کرتے ہوئے ملزم ظاہر جعفر کے گھر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس گھر میں شور شرابہ ہو رہا ہے۔تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق ملزم ظاہر جعفر کے پولی گرافک ٹیسٹ کی رپورٹ اگلے چند روز میں پولیس کو موصول ہو جائے گی۔