Security forces retakes the control of Farkhar and Worsaj districts in Takhar province

کابل: بلخ اور تخار دونوں ہی صوبوں میں اتوار کی شب سے طالبان اور سلامتی دستوں میں جنگ جاری ہے۔اور اس دوران طالبان کے خلاف صف آراءرضاکار دستوں کی مدد سے سلامتی دستوں نے روز تخار صوبے میں فراخر اور ورساج اضلاع کو طالبان کے قبضہ سے چھڑا کر دوبارہ اپنا تسلط قائم کر لیا۔ بلخ میں دیہدادی ڈسٹرکٹ میں خونیز جھڑپیں چل رہی ہیں ۔یہ جھڑپیں بلخ کے دارالخلافہ مزار شریف شہر اور پل امام بخاری کے نزدیک جاری ہیں۔

دہدادی کے ضلعی گورنر سید مصطفیٰ سادات نے بتایا کہ لڑائی آدھی رات کو مزار شریف کھاد اور پاور پلانٹ اور امام بخاری پل کے قریب چار انگور کے باغوں میں شروع ہوئی۔ بلخ سے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اگر صوبے میں سلامتی دستوں کا تازہ کمک نہ بھیجی گئی اور فضائیہ نے زمینی فوج کا بروقت ساتھ نہ دیا تو سلامتی دستوں کا دفاعی مورچہ ٹوٹ سکتا ہے۔

فی الحال سلامتی دستوں نے ان جھڑپوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔یہ تام صورت حال گذشتہ تن روز کے دوران تین کلیدی شمالی شہروں پر طالبان کے قبضہ کے بعد پیدا ہوئی ہے۔دریں اثنا تخار کے متعدد باشندوں نے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنے میں حکومت کی لاپروائی قرار دیتے ہوئے اس تباہی کا ذمہ دار حکومت کو ہی ٹھہراتی ہے۔ادھر گزشتہ روز سے قندوز ، جوزجان ، ہرات اور ہلمند صوبوں میں جو جھڑپیں شروع ہوئی تھیں وہ ہنوز جاری ہیں ۔