Taliban continues to enjoy safe haven in Pakistan: Afghan ambassador to UN

نیو یارک: افغان سفیر متعین اقوام متحدہ غلام اسحاق زئی نے سلامتی کونسل کو مطلع کہ طالبان کو پاکستان سے محفوظ پناہ گاہیں، ٹھکانے ، جنگی مشینوں تک سپلائی کی سہولتیں اور لاجسٹک لائنز کی سہولت مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کے تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے ان کے ملک کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندے نے مزید کہا کہ طالبان جنگجوں کی افغانستان میں داخل ہونے کے لیے ڈیورنڈ لائن کے قریب طالبان جنگجوو¿ں کے اجتماع اور پاکستانی ہسپتالوں میں زخمی طالبان دہشت گردوںکے علاج کی تصاویر اور ویڈیوز وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان طالبان کو ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کر رہا ہے اور پاکستان ان کی جنگی مشینوں کی سپلائی اور لاجسٹک لائنز فراہم کرتا ہے۔اسحاق زئی نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یہ نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 1988 کی پابندیوں کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کے تعلقات قائم کرنے کے اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔ 15 ملکی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کو افغانستان کی صورتحال پر ایک اجلاس منعقد کیا۔ فی الحال ہندوستان اگست کے مہینے کے لیے اس کا صدر ہے۔

اسحاق زئی نے کونسل کو بتایا کہ گزشتہ ماہ تاشقند میں افغانستان اور پاکستان کی قیادت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق ہم پاکستان کو طالبان کے محفوظ ٹھکانوں اور سپلائی لائنوں کو ہٹانے اور تباہ کرنے میں مدد کریں گے ، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن کے لیے بین الاقوامی کوششوں کے تحت مل کر کام کرنے پر زور دیں گے۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ افغانستان ایک دوسرے کی خودمختاری کے باہمی احترام پر پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور پرامن بقائے باہمی کے سوا کچھ نہیں چاہتاہے۔