Taliban overrun northern Afghan cities of Kunduz, Sar-e Pul, Taloqan

کابل : مقامی حکام کے مطابق طالبان جنگجوو¿ں نے جنگی نوعیت سے نہایت اہم شمال مشرقی شہر قندوز سمیت تین صوبائی دارالحکومتوں کو تخت و تاراج کر دیا اور شمالی افغانستان میں مزید شہروں کے لیے خطرہ پیدا کر دیا۔ ایک ممبر اسمبلی نے اتوار کے روز کہا کہ طالبان نے قندوز میں حکومت کی کئی اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا اور سرکاری فوجوں کاہوائی اڈے اور ا پنے فوجی اڈے تک ہی کنٹرول رہ گیا جس سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ قندوز بھی طالبان کے قبضہ میں جا نے والا تازہ ترین صوبہ ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے روز افغانستان کی وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے ٹویٹ کرکے یہ اطلاع دی تھی کہ قندوز اور نیمروز صوبوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دونوں صوبوں کے طالبانی گورنروں سمیت 25 جنگجو مارے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ قندوز کے ضلع دشت آرچی میں جمعہ کی شب افغانستان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورس اور باغی فورسز کے جوانوں کے ساتھ جھڑپ میں صوبے کے طالبانی گورنر سمیت گیارہ جنگجو مارے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبہ نیمروز کے زرنج شہر میں طالبانی جنگجوؤں کے ایک اجتماع پر فضائیہ کے حملے میں طالبانی گورنر عبدالخالق سمیت 14 جنگجو مارے گئے۔اس کے علاوہ صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد اور صوبہ تخار کے دارالحکومت تلیکان پر طالبان کے حملوں کو گزشتہ رات سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ شہروں کے مضافات میں سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دسیوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ افغانستان سے مئی سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان کی طرف سے تشدد میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ طالبانی تشدد کو روکنے کے لیے افغان فوج نے بھی کمر کس لی ہے اور روزانہ فضائی اور زمینی کارروائی کے ذریعے جنگجوو¿ں کا خاتمہ کر رہی ہے۔