Climate change: IPCC report is 'code red for humanity'

اقوام متحدہ: (اے یو ایس ) اقوامِ متحدہ کے سائنسدانوں کے مطابق اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ انسان دنیا کے ماحول پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔پیر کو بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا۔‘لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاو¿س گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہے۔یہ رپورٹوں کی اس سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی اور یہ 2013 کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے جسے گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26 سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹیریز کے مطابق پیر کو شائع ہونے والی رپورٹ انسانیت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔’اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔‘زمین کی سطح کا درجہ حرارت 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا 2011 سے 2020 کے درمیان رہا۔ دونوں ادوار کے درمیان ایک ا عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے۔گذشتہ پانچ برس 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے۔

دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں۔یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔نئی رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ہم نے آج تک جس گرمی کا تجربہ کیا ہے اس نے ہمارے بہت سے سیاروں کے سپورٹ سسٹم میں تبدیلیاں کی ہیں جو ناقابل واپسی ہیں۔رپورٹ کے مطابق سمندر گرم ہوتے رہیں گے اور مزید تیزابیت کا شکار ہوجائیں گے۔ پہاڑی اور قطبی گلیشیر کئی دہائیوں یا صدیوں تک پگھلتے رہیں گے۔’اور ان میں سے بہت سے نتائج/تبدیلیاں ناقابلِ واپسی ہیں‘۔۔۔ یعنی دوبارہ پہلے والی حالت پر واپس جانا ممکن نہیں۔سمندر کی سطح میں اضافے کی بات کی جائے تو، سائنسدانوں نے مختلف سطحوں کے اخراج کی ممکنہ حد کا نمونہ بنایا ہے۔تاہم اس صدی کے اختتام تک تقریباً دو میٹر اضافے اور 2150 تک پانچ میٹر اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔اس طرح کے نتائج (جن کا امکان اگرچہ کم ہے) 2100 تک سیلاب کے باعث ساحلی علاقوں میں مزید لاکھوں لوگوں کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔رپورٹ کا ایک اہم پہلو درجہ حرارت میں اضافے کی متوقع شرح ہے، اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانیت کی حفاظت کے لیے اس اضافے کا کیا مطلب ہے۔اس رپورٹ کے مصنفین کا خیال ہے کہ تمام منظرناموں کے جائزے سے واضح ہے کہ 2040 تک عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری تک اضافہ ہو جائے گا۔ اگر اگلے چند سالوں میں گیسوں کے اخراج میں کمی نہیں کی گئی تو ایسا 2040 سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔بی بی سی کے ماحولیات کے نامہ نگار نوین سنگھ کھڑکا کے مطابق حکام اور ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک خود کو موسمیاتی تبدیلی سے بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔90 ممالک کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نقصانات کو روکنے والے ان کے منصوبے پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والی آفات سے متاثر ہو چکے ہیں اور ان میں دن بدن شدت آتی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی موافقت کے منصوبوں پر کام کرنے والے ترقی پذیر ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اقوام متحدہ کے مطابق اس بات کے محض محدود شواہد موجود ہیں کہ ان منصوبوں نے کسی خطرے کو کم کیا ہو۔موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سی) گروپ کی چیئرپرسن سونم وانگڈی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اپنے منصوبوں کو موسم کے بدترین بحران کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے موجودہ منصوبے لوگوں کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہیں۔‘یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کا موسمیاتی سائنس کا ادارہ پیر کو گلوبل وارمنگ کی صورتحال کے بارے میں اپنا تازہ جائزہ شائع کر چکا ہے۔

صنعتی دور شروع ہونے کے بعد سے دنیا پہلے ہی تقریباً 1.2 سینٹی گریڈ تک گرم ہوچکی ہے اور یہ درجہ حرارت تب تک بڑھتا رہے گا جب تک کہ دنیا بھر کی حکومتیں گیسوں کے اخراج پر قابو نہیں پا لیتیں۔پچھلے سال کیریبیئن میں 30 بڑے طوفان آئے تھے جن میں چھ بڑے سمندری طوفان بھی شامل تھے اور عالمی موسمیاتی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ خطہ ابھی تک بحالی کے دور سے گزر رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹیگا اور باربوڈا جیسے جزیروں پر بہت سی عمارتیں ان طوفانوں کی وجہ سے آنے والی تیز ہواو¿ں کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔الائنس آف ا سمال آئی لینڈ سٹیٹس کے ماحولیات سے متعلق چیف ثالث ڈیان بلیک لینر کا کہنا ہے کہ ’ہم کیٹیگری فور کے سمندری طوفان دیکھ رہے ہیں، لہذا ہم نے اپنے موافقت کے منصوبے اسی حساب سے تیار کیے ہیں لیکن اب ہم کیٹیگری فائیو کے سمندری طوفانوں کی زد میں ہیں۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’کیٹگری فائیو کے سمندری طوفان اپنے ساتھ 180 میل فی گھنٹہ کی رفتار کی ہوائیں بھی لاتے ہیں جو ہمارے گھروں کے اندر دباو¿ پیدا کرتی ہیں اور ان سے گھروں کی چھتیں نہیں سہہ سکتیں۔‘اکثر پیسیفک جزائر پر موجود ممالک سنہ 2020 کے وسط اور جنوری 2021 کے درمیان تین سمندری طوفانوں کا نشانہ بنے تھے۔فجی میں حادثات سے نمٹنے والے ادارے فجی کونسل برائے سوشل سروسز کے سربراہ وانی کاٹاناسیگا کا کہنا ہے کہ ’ان تین سمندری طوفانوں کے بعد ملک کے شمالی حصے میں موجود برادریوں نے موافقت سے منسلک منصوبوں اور سمندری دیواروں کو ٹوٹتے دیکھا ہے۔’پانی اور تیز ہوائیں متعدد مرتبہ ان آبادیوں کی تباہی کا باعث بنی اور ان کے باعث مقامی افراد کو مقامی منتقلی کا شکار ہونا پڑا۔‘اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ سمندری طوفان اس سے پہلے نہیں دیکھے گیے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ سمندری طوفان گذشتہ 40 سالوں کے دوران مزید شدید ہو گئے ہیں لیکن ان کی مجموعی تعداد میں اضافے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔یوگانڈا میں روینزوری خطے کی برادریاں اپنے آپ کو لینڈ سلائیڈز اور سیلاب سے بچانے کے کوشش میں مصروف ہیں۔ اس کام کے لیے وہ درخت لگا رہے ہیں، خندقیں کھود رہیں ہیں تاکہ زمین کے کٹاؤ سے بچا جا سکے۔تاہم یہ اقدامات ہمیشہ کامیاب بھی نہیں رہتے۔آکس فیم کے لیے مقامی ماحولیاتی تبدیلی اور اس بچاؤ کے اہلکار جیکسن موہنڈو کہتے ہیں کہ ’بارشیں اتنی شدید ہو چکی ہیں کہ ہم نے اس سیلاب کے باعث اس دفاع کو تہس نہس ہوتے دیکھا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے نتیجے میں پہاڑوں پر متعدد مرتبہ چٹانیں کھسکنے اور تودے گرنے کے بھی واقعات رو نما ہو چکے ہیں جس کے باعث کھیتوں اور آبادیوں کو نقصان پہنچا ہے۔