China and Russia hold large-scale joint military drills

بیجنگ: افغانستان میں اضافے کے بارے میں چین کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ افغان عدم استحکام کو لے کر غیر یقینی صورتحال کے درمیان چین اور روس کی فوجی افواج نے شمال مغربی چین میں مشترکہ مشقیں کی ہیں۔ ننگزیا ہوا خود مختار علاقے میںاس مشق میں فوج اور فضائیہ کے دستے شامل ہیں اور یہ مشق جمعہ تک جاری رہے گی۔ یہ علاقہ سنکیانگ سے ملتا ہے ، جہاں چین نے 10 لاکھ سے زائد اویغور اور دیگر مسلم اقلیتوں کو حراست میں لیا ہے۔

سنکیانگ افغانستان کے ساتھ سرحد مشترکہ کر تا ہے اور چین کو اس بات پر تشویش ہے کہ اگر امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو اس کی سرحد پر تشدد پھیل جائے گا۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے بتایا کہ یہ مشق پیر کو شروع ہوئی اور اس کی قیادت حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی فوجی کمیشن کے رکن لیژوچینگ نے کی۔

اس مشق کا مقصد چینی اور روسی افواج کے درمیان مشترکہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو گہرا کرنا اور بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی اور استحکام کی مشترکہ حفاظت کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ عزم اور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔