CIA chief visits Israel amid Iran tensions

تل ابیب: (اے یو ایس ) امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ ولیم برنز ایران پر تبادلہ خیال کے لیے اسرائیل پہنچ گئے۔اسرائیل نے برنز کی پذیرائی کے ساتھ ساتھ ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کو ایک خبطی اور فضول شخص بتا کر ایران سے کسی بھی قسم کی امریکی مصالحت کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔اسرائیلی عہدیداروں کی جانب سے ایسی باتیں کہی جا رہی ہیں جس میں ابراہیم رئیسی کو ایک ایسا جنونی انتہاپسند سے تعبیر کیا جا رہا ہے جس مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔ واضح ہو کہ برنز منگل کے روز تل ابیب پہنچ گئے ۔ وہ اپنا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل گئے ہیں۔ وہ ایران کے معاملے پراسرائیلی حکام سے مذاکرات کریں گے۔

سی آئی اے چیف ایک ایسے وقت میں تل ابیب پہنچے ہیں جب حال ہی میں اسرائیل کے ’مرسر اسٹریٹ‘ آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کے بعد ایران ۔ اسرائی کے اور لبنانی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پیدا ہو ئی ہے۔ اگرچہ اسائیلی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ سی آئی ا سربراہ کے ساتھ گفتگو کا ایجنڈا کیا رہے گا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور دیگر اعلیٰ دفاعی اور انٹیلی جنس حکام سے بھی ملیں گے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور تہران کی علاقائی سرگرمیوں پر بات کی جائے گی۔ اسرائیل کو نئی ایرانی حکومت کے بارے میں امریکی پالیسی اور 2015 کے ایٹمی معاہدے میں ممکنہ واپسی کے بارے میں مزید بریفنگ کی امید ہے۔

توقع ہے کہ برنز فلسطینی انٹیلی جنس کے سربراہ ماجد فرج سے بھی ملاقات کے لیے رام اللہ جائیں گے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات متوقع ہے۔موساد کے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سے قریبی تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران ’سی آئی اے‘ اور موساد نے ایران کے خلاف کئی کارروائیوں پر مشترکہ طور پر کام کیا۔سی آئی اے کا فلسطینی انٹیلی جنس سروس کے ساتھ “انسداد دہشت گردی” کے ساتھ بہت قریبی تعاون رہا ہے جسے ایجنسی نے ٹرمپ اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان دوسرے تمام رابطوں کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رکھا۔امریکی محکمہ خارجہ میں اپنے طویل کیریئر کے دوران سی آئی اے چیف نے اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے۔