JKLFN give the call to protest at D chowk Islamabad

سری نگر: جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نظریاتی(جے کے ایل ایف این) کے رہنما صداقت مغل کشمیری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے اب یہ بات واضح ہو چکی ہے اور پاکستان کے ناپاک ارادے بے نقاب ہو چکے ہیں کہ پاکستان یکے بعد دیگرے قانون سازی کر کے ان دونوں علاقوں کو اپنا پانچواں اور چھٹا صوبہ بنا لے گا۔ صداقت مغل نے اس کا انکشاف کرتے ہوئے ہر خاص و عام سے اپیل کی ہے کہ اس اقدام کے خلاف پہلے ہی اٹھ کھڑے ہوں اور ہم کشمیریوں کی غیرت کا تقاضہ ہے کہ قبل اس کے کہ پاکستان ایسا کوئی حتمی قدم اٹھائے ہمیں نہایت زور شور کے ساتھ اور بہت بلند آواز میں اس کے خلاف احتجاج ،مظاہرے اور دھرنے دینے چاہئیں۔ صداقت نے کہا کہ ہمیں صوبہ نہیں آزادی چاہئے۔اور صوبہ تو نہیں بنانے دیں گے البتہ ہم سب مل کر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے والوں کا قبرستان ضرور بنادیں گے دھرتی کے غیرت مند نوجوان تیار رہیں میں انہیں جے کے ایل ایف این میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں۔انہوں نے اعلان کیا کہ جے کے ایل ایف این اسلام آباد ڈی چوک میں دوبارہ دھرنا دے گا۔ اور اس دھرنے کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ایک غیرت مند سے پر زور اپیل ہے کہ وہ اس مطالبہ کو منوانے کے لیے کیے جانے والے اس کار خیر اور جدوجہد میں دامے درمے سخنے تعاون دے کر اس تحریک کو کامیاب بناانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

صداقت نے مزید کہا کہ اب باتوں کا نہیں عمل کا وقت ہے کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش اورحالات کا تقاضہ ہے کے کم از کم دس ہزار لوگ ڈی چوک میں دھرنا دے کر بیٹھیں ۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی آپنے کنٹرول حصہ بشمول گلگت بلتستان کی شناخت ہمیشہ کے لیے مٹانے کا پلان بنا چکی ہے۔اور اب ہمیں پانی سر سے گزرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہے بلکہ پیشگی پلان اور تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہےپاکستانی عوام سے بھی رابطہ کر کے ریاست کا حقیقی مقدمہ عوام پاکستان کو سمجھانے کے علاوہ میرے خیال سے ہمیں پاکستان کی سپریم کورٹ کے دروازے پر بھی دستک دینی چاہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو ایسے اقدام سے باز رکھے۔بخدا اگر میرے یا میری جماعت، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نظریاتی کے پاس وسائل ہوتے تو میں زندہ ضمیر وکلا کی خدمات حاصل کر کے ابھی تک رٹ دائر کر چکا ہوتا۔ بہر کیف ریاست کے محب وطن مالداروں کو اس پہلو پر بروقت غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نظریاتی ضیلع نیلم کی تنظیمی باڈی بنانے سے قبل خطاب کرتے ہوئے صداقت نے کہا کہ تمام عہدیداران اور ہر ریاستی شہری کو کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیرت زدہ ہیں کہ لوگ اپنا رزق سیاستدانوں کی چاکری اور قصیدہ گوئی میں تلاش کر رہے ہیں ہر ایک کہتا نظر آتا ہے فلاں کو حکومت میں وزیر، مشیر، نوکر، چاکر، منشی، مخبر، کمی کمین کسی بھی جگہ رکھ لیا جائے۔ اس کی پارٹی کے لیے بہت خدمات ہیں۔

صداقت نے کہا کہ میں اس قسم کی ذہنیت کے مالک لوگوں کی سوچ کو تبدیل نہیں کر سکتا مگر اتنا ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حقیقی اور سچے، بے لوث اور حرص و طمع سے پاک رہنما صدیوں بعد کبھی قوموں میں پیدا ہوتے ہیں ۔جیسے پاکستان میں جناح کے بعد آج تک رہنما نہیں آیا۔ جموں کشمیر میں شیخ عبداللہ، افریقہ میں احمد مختیار کے بعد منڈیلا رہنما تھے ہندوستان میں مہاتما گاندھی اور چین میں ماو¿ زے تنگ اپنی قوموں کے رہنما تھے ہاں چین کی جارحیت کا مستقل مقابلہ کرنے پر دلائی لامہ، فلپائن میں جوا، منشیات ختم کرنے پر فلپائن کا موجودہ صدر ،دنیا بھر سے مقابلہ کرتے ہوے شام کو اپنے قبضہ میں رکھنے پر شامی صدر،عوام کے دل جیتنے پر ترک صدر، بنگال اور ان کی طرح کے چند دیگر لوگ اپنی قوموں کے رہنما کہلائے جانے کے مستحق ہیں مگر پاکستانی کنٹرول جموں کشمیر کے ہر گاو¿ں میں دس دس رہنما موجود ہیں خدا کی مرضی ۔وطن پرستوں کو کہتے ہو وطن کا دشمن اور غداروں کو دیتے ہو اختیارات اعلیٰ۔۔ ڈروخدا سے۔۔۔1999 میں جس درہ شیر خان کے نیازی خاندان کو پاکستانی فوج نے انڈین مخبری کے الزام میں اٹھایا تھا۔ آج اسی نیازی خاندان کے سردار کو وزیر اعظم بنا دیا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اب جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے نئی آزمائش شروع ہونے والی ہیں مگر غاصب کو منہ کی کھانی پڑے گی۔