Punjab on alert as drone-dropped tiffin bomb, grenades found in Amritsar

چنڈی گڑھ (رمنجیت سنگھ) :مسلسل کئی سالوں تک دہشت گردی کی آگ میں جلنے والے پنجاب کو ایک بار پھر دہشت گردی کے برے دور میں پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی اور بعض اوقات مذہبی جذبات کا سہارا لے کر نوجوانوں کو گمراہ کر دہشت گردی کے راستے پر لے جانے کی کوششوں کو پنجاب پولیس نے ناکام بنا دیا۔واضح ہو کہ پنجاب کے امرتسر سے برآمد ہوئے ٹفن باکس بم کے حوالے سے ریاستی حکومت الرٹ پر ہے۔ ریاست بھر میں حکومت کی طرف سے چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ اس دوران ایک خاص انکشاف ہوا ہے کہ پولیس نے جو ٹفن بم برآمد کیا ہے اس کا براہ راست تعلق پاکستان سے پایا گیا ہے۔ موصولہ معلومات کے مطابق پاکستان میں اسی طرح کا ٹفن باکس آن لائن مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ بر آمد کئے گئے ٹفن بم کے اوپر کارٹون کیریکٹر منین کی فوٹو لگی ہے۔

پنجاب کیسری کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں یہ ٹفن پاکستان کی آن لائن ویب سائٹ پر فروخت کے لیے دستیاب پایا گیا ہے۔ یہ لنچ باکس پاکستان میں چلنے والی ای کامرس ویب سائٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے جس کی قیمت 400 کے قریب رکھی گئی ہے۔ اس ٹفن باکس میں منین کے علاوہ کچھ دوسرے کارٹون کیریکٹرز کی تصاویر بھی ہیں۔ جو ٹفن بم امرتسر میں بر آمد ہوا ہے وہ بالکل آن لائن دستیاب ٹفن باکس کی فوٹو کی سے میچ کرتا ہے۔ اس ویب سائٹ کا رابطہ نمبر بھی پاکستان سے ہی دیا گیا ہے۔ یہ ویب سائٹ سوشل میڈیا پر سامان بھی فروخت کر رہی ہے۔ ویب سائٹ پر جس ای کامرس مینیجر کے بارے میں جانکاری دی گئی ہے اس کا نام بلال شیخ لکھا گیا ہے اور اس کا مقام بھی پاکستان سندھ کے کراچی شہر کے طور پر دیا گیا ہے۔ یہ ویب سائٹ پاکستان میں ای کامرس کام کرتی ہے اور آن لائن شاپنگ کے لیے اس میں کئی قسم کی مصنوعات فراہم کی گئی ہیں۔

اس انکشاف کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ برآمد شدہ ٹفن بم کا براہ راست تعلق پاکستان سے ہے۔پنجاب پولیس کے ذریعہ امرتسر میں سرحد پار سے ڈرون کے ذریعے بھیجے گئے آئی ای ڈی ٹفن بم کے بر آمد ہونے سے پنجاب پولیس سمیت سیکورٹی ایجنسیاں بھی چوکس ہو گئی ہیں۔ اسے یوم آزادی کی تیاریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ ڈی جی پی کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے ، کیونکہ اس کو بچوں کے ایک بہت ہی پرکشش ٹفن باکس میں لگایا گیا تھا۔ دہشت گرد تنظیمیں اسے کسی بھی بھیڑ والے علاقے میں لگاسکتی ہیں۔ لاوارث پڑے خوبصورت کارٹون کی شکل والے ٹفن باکس کو دیکھ کر کوئی بھی بچہ یا بوڑھا اٹھا سکتا تھا اور یہ دھماکے کا سبب بن سکتا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹفن بم بھڑ بھاڑ والے علاقے میں پھٹ جاتا تو 100 میٹر کے علاقے میں بڑی تباہی ہوتی۔ ڈی جی پی گپتا نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر پڑی کسی بھی لاوارث چیز کو ہاتھ نہ لگائیں اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔ ڈی جی پی نے کہا کہ ریاست بھر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

انہوں نے پنجاب کے باشندوں کوبتایا کہ اگر کوئی مشکوک یا لاوارث چیز دیکھی جائے تو وہ ہیلپ لائن نمبر 112 یا 181 پر پولیس سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ویسے بھی گورپتونت پنوں وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اور گورنر بی پی سنگھ بدنور کو یوم آزادی پر جھنڈا نہ پہرانے کی دھمکی دے چکے ہیں ۔ اس کے بارے میں بھی ، مرکزی ایجنسیوں کی طرف سے معاملے کی سنگینی کی چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ خطرے سے خبردار کیا جا سکے۔ملک میں پہلی بار پنجاب پولیس نے دہشت گرد انہ سرگرمیوں کے لیے ڈرون کے استعمال کا انکشاف کیا تھا۔ اس کی وجہ سے ، نہ صرف پنجاب کے ساتھ لگتی بین الاقوامی سرحد ، بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بین الاقوامی سرحد پر ڈرون کی سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسیاں الرٹ ہوئیں۔ 2017 کے بعد ، دہشت گردی کے 45 ماڈیولز کو غیر فعال کر 284 دہشت گرد اور ان کے حامی پکڑے گئے۔ پنجاب کیسری کے ساتھ خاص بات چیت میں ڈی جی پی دنکر گپتا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرون ملک بیٹھے دہشت گرد اور ان کے حامی پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات کو انجام دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مسلسل بہتر تربیت اور تکنیکی مدد سے پنجاب پولیس دہشت گرد تنظیموں کی کوششوں کو ناکام بنانے میں بھی کامیاب رہی ہے۔ پھر چاہے وہ ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ ہو یا ڈرون کے ذریعہ منشیات کی اسمگلنگ اور ہتھیاروں کی سپلائی کا ہو۔

ڈی جی پی گپتا نے کہا کہ اگرچہ ڈرون کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روکنا ابھی بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہواہے ، لیکن مرکزی سیکورٹی ایجنسیوں کی مدد اور بین الاقوامی سرحد کے ساتھ لگتے دیہات میں رہنے والے لوگوں کی مدد سے پولیس اسے کافی حد تک کنٹرول کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ جیسے ہی کسی بھی قسم کی ڈرون سرگرمی کا پتہ چلتا ہے ، لوگ فوراً پولیس کو اطلاع دیتے ہیں ، جس کی وجہ سے بہت سے سنگین معاملات میں بر آمدگی بھی ہوئی ہے۔ ڈی جی پی کہا کہ تازہ بر آمدگی بھی مقامی لوگوں کی مدد کا نتیجہ ہے۔ برآمد ٹفن بم اور ہینڈ گرنیڈ استعمال ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی پی گپتا نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی تک معلومات نہیں ملی ہیں ، لیکن امکان ہے کہ تفتیش کے دوران معلوم ہو جائے گا کہ کنسائنمنٹ کس کی تھی اور کون سی دہشت گرد تنظیم نے اسے سرحد پار سے بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دستی بموں پر مینوفیکچرنگ سے متعلقہ ماکنگ( نشان) موجود ہے ، لیکن یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس ملک میں بنے ہیں۔ اس سے پہلے ملنے والے دستی بم بھی ان سے ملتے جلتے تھے جن میں سے ایک جالندھر کے مقصود اںتھانے ، جبکہ دوسرا ایک مذہبی ادارے پر دھماکے کے لئے کیا گیا تھا۔