Security failures let Berlin truck terrorist slip through net

برلن:(اے یوایس)برلن میں 2016 میں کرسمس مارکیٹ پر 16 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے دہشت گردانہ حملے کی وجہ متعدد سکیورٹی اداروں کی غلطیاں تھیں۔ یہ اعلان جرمن پارلیمان کے ایوان نمائندگان کی انکوائری کمیٹی کی طرف سے 9 اگست کو کیا گیا۔ دہشت گرد انیس امری، جس نے 2016 میں برلن کی ایک کرسمس مارکیٹ پر حملہ کر کے 16 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، اس کارروائی سے پہلے ہی وہ پولیس کی نگاہوں میں تھا۔ اس خونریز حملے کے بعد بہت سے افراد یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر پولیس کو انیس امری پر شکوک و شبہات تھے اور وہ اس پر نظر رکھے ہوئی تھی تو آخر یہ دہشت گرد کرسمس مارکیٹ پر حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوا؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے وفاقی جرمن پارلیمان کے ایوان نمائندگان کی انکوائری کمیٹی نے چھان بین کے بعد پیر 9 اگست کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں اس امر کا اقرار کیا گیا ہے کہ 2016 میں برلن کے کرسمس بازار پر ہونے والا حملہ دراصل سکیورٹی کے متعدد اداروں کی غلطیوں کے سبب ممکن ہوا۔

اس کمیٹی کے صدر اور کرسچن ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو کے سیاستدان اشٹیفان لنس کا اس رپورٹ کو منظر عام پر لاتے ہوئے کہنا تھا، ” اس واقعے کا کوئی ایک فریق قصوروار نہیں ہے۔ نا ہی کسی ایک فرد کی اس میں غلطی ہے جس کے سبب یہ دہشت گردانہ واقعہ رونما ہوا تھا۔“ تاہم جرمن سیاستدان کا کہنا تھا کہ بہت سی غلطیاں مل کر اس کا سبب بنیں جن کا تعلق کرمنل پولیس اور تحفظ آئین کے ادارے سے ہے۔ انہوں نے کہا،” ان غلطیوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ 2016 کا دہشت گردانہ حملہ بنا۔“جرمنی کی وفاقی پارلیمانی کمیٹی میں ہونے والی انکوائری کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سب سے فیصلہ کن امر یہ تھا کہ پناہ کے متلاشی تیونسی باشندے انیس امری کو صحیح طور پر جانچا یا سمجھا نہیں گیا۔ یاد رہے کہ امری کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی۔ امری کو گرچہ زیادہ پر تشدد اور زیادہ خطرناک سمجھا جا رہا تھا تاہم 2016 موسم گرما سے اس پر سکیورٹی اداروں نے مکمل کڑی نظر نہیں رکھی نا ہی اسٹیٹ کرمنل آفس نے امری کو مبنیہ طور پر ‘دھماکہ خیز خطرے‘ کا سبب قرار دیا تھا۔امری کیس کی چھان بین یا انکوائری کمیٹی نے چار سالوں کے دوران 67 نشستوں یا میٹنگوں میں 97 گواہان جن میں تحفظ آئین کی عدالت کے استغاثہ، کرمنل پولیس کے محکمے کے متعدد افسران اورسیاستدان شامل تھے سے سوالات کیے۔ اس طویل اور مفصل انکوائری کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ 1235 صفحوں پر مشتمل ہے۔ اس میں وفاقی پارلیمان کے متعدد سیاسی دھڑوں کے خصوصی رائے اور بیانات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس تفتیشی کارروائی میں وفاقی جرمن پولیس برائے جرائم کے دفتر کے کردار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد رپورٹ میں کہا گیا کہ امری کے سلسلے میں تمام اداروں نے غلط فہمی اور غلط تاثر سے کام لیا۔

چار سال تک جاری چھان بین کے بعد امری کی طرف سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی جو وجوہات پیش کی گئیں ان میں ایک اہم وجہ یہ بھی شامل ہے کہ جرمنی میں مسلم انتہا پسندی اور دہشت گردی سے منسلک جرائم سے نمٹنے کے وفاقی دفتر کے عملے میں افرادی قوت کی کمی ہے۔ اس سلسلے میں پیرس میں ہونے والے حملے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ا±س کے بعد جرمنی میں اس عملے کے اراکین کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے تھا جو نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ برلن اور مغربی صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے ریاستی دفاتر برائے انسداد جرائم جرمنی کی تحفظ آئین کی عدالت اور برلن کے دفتر استغاثہ کے مابین اس بارے میں ناکافی تبادلہ خیال کیا گیا اور امری سے لاحق ”مستقل خطرات سے نمٹنے کے لیے ناکافی انتظام کیا گیا۔“اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انیس امری پر ہر وقت کڑی نظر رکھی جانی چاہیے تھی اور اس کے ٹیلی فون کالس اور چیٹ وغیرہ کی ہر وقت نگرانی ضروری تھی۔ اس کے علاوہ 2016 میں ریاستی دفتر برائے انسداد دہشت گردی ‘ایل کے اے‘ نے موسم گرما میں اپنی تفتیشی کاروائیوں کا مرکز انتہائی بائیں بازو کی انتہا پسندی کے واقعات اور مناظر پر مر کوز کر رکھی تھی۔واضح رہے کہ جرمنی کا انسداد دہشت گردی کا نیا مرکز 2022 اور 2023 سے اپنا کام شروع کردے گا۔ پولیس محکمے کو 60 ملین یورو کی رقم فراہم کی گی ہے جس سے نئی گاڑیاں، ہتھیار اور حفاظتی وردیاں وغیرہ خریدی جائیں گی۔ علاوہ ازیں وفاقی جرمن پولیس کے ‘آئی ٹی ڈپارٹمنٹ‘ کو بھی جدید تر بنایا جائے گا۔