Taliban claim to have seized northeastern Badakhshan Province

کابل: (اے یو ایس) افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کر لیا ہے۔ اگر طالبان کا دعویٰ درست مان لیا جائے تو یہ ایک ہفتے میں ان کے قبضے میں آنے والا 9واں شہر ہوگا۔تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ فضائی اور کمانڈو حملوں میں ملک کے دیگر حصوں میں درجنوں طالبان عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔اس سے قبل طالبان نے صوبہ سمنگان کے دارالحکومت ایبک پر بھی قبضہ کیا۔ سمنگان کے نائب گورنر صفت اللہ سمنگانی نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ صوبے کا دارالحکومت ایبک طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدت پسند شہر سے گزر رہے ہیں۔کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز بغیر کسی لڑائی کے پیچھے ہٹ گئیں۔

منگل کو طالبان کی سب سے نمایاں پیش رفت کابل سے تقریبا دو سو کلومیٹر شمال میں پل خمری شہر پر قبضہ تھا۔یہ دارالحکومت اور شمالی شہر قندوز کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے اور اسے وسطی ایشیا کا گیٹ وے سمجھا جاتا ہے۔طالبان نے منگل کو افغانستان کے دوسرے شہر فراہ پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ پلِ خمری صوبہ بغلان اور فراہ اپنے ہم نام صوبے کے صدر مقامات ہیں۔بغلان سے رکنِ پارلیمان مامور احمدزئی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان اب شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔’ا±نھوں نے مرکزی چوراہے اور گورنر کے دفتر پر اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔’یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ دوحہ میں طالبان کے نمائندوں اور افغان حکام کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ایک اور کوشش کر رہا ہے۔اسی دوران امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انھیں افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا ہے کہ ا±ن کی تنظیم دوحہ میں مذاکرات کے لیے پرعزم ہے اور مذاکرات کے مرحلے کا خاتمہ نہیں چاہتی۔مےڈےا کے مطابق افغان حکومت کے ترجمان نے بھی اس موقع پر الجزیرہ سے گفتگو کی اور کہا کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ان مذاکرات میں ایک ثالث بھی ہو تاکہ ‘فریقین کی سنجیدگی کا تعین کیا جا سکے۔’شمالی افغانستان روایتی طور پر طالبان مخالف گروہوں کے قبضے میں رہا ہے چنانچہ پل خمری پر قبضے کو نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد اگر طالبان مزارِ شریف پر قبضہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے تو اسے کابل انتظامیہ کی ملک پر گرفت مزید ڈھیلی ہونے کی علامت تصور کیا جائے گا۔اسی دوران قندھار اور ہلمند کے صوبوں میں لڑائی جاری ہے۔قندھار صوبے کے صدر مقام قندھار شہر اور ہلمند صوبے کے دارالخلافہ لشکر گاہ پر اگر طالبان قبضہ کر لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ جنوبی افغانستان پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔