U.S. says it is up to Afghans to defend country as Taliban captured a sixth provincial capital

واشنگٹن:(اے یوایس)امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ افغان سکیورٹی فورسز پر منحصر ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے چھٹے صوبائی دارالحکومت پر قبضے کے بعد ملک کا دفاع کریں۔صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ کا فوجی مشن افغانستان میں 31 اگست کو ختم ہو جائے گا، افغانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا اور وہ امریکہ کی ایک اور نسل کو 20 سالہ جنگ کے لیے مختص نہیں کریں گے۔

پیر کو محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد قطر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ طالبان پر زور دیں گے کہ وہ اپنی جارحیت ختم کریں اور سیاسی حل کے لیے بات چیت کریں۔‘تین روزہ مذاکرات میں حکومتی نمائندے اور کثیرالجہتی ادارے تشدد میں کمی، جنگ بندی اور طاقت کے زور پر حکومت قبول نہ کروانے پر زور دیں گے۔‘طالبان نے پیر کو افغانستان کے چھٹے صوبائی دارالحکومت ایبک پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

یبک میں قانون ساز ضیاالدین ضیا نے بتایا کہ ’اس وقت طالبان پولیس ہیڈ کوارٹرز اور کمپاو¿نڈز پر قبضے کے لیے افغان فورسز سے لڑ رہے ہیں۔ دارالحکومت کے بہت سے علاقے طالبان کے قبضے میں جا چکے ہیں۔پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکہ کو صورتحال پر گہری تشویش ہے لیکن افغان سکیورٹی فورسز کے پاس شدت پسند گروپ سے لڑنے کی اہلیت ہے۔.جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر افغان سکیورٹی فورسز اس لڑائی میں اپنی اہلیت نہ دکھا سکیں تو امریکی فوج کیا کر سکتی ہے، کربی نے جواب دیا کہ ’زیادہ کچھ نہیں۔‘

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’طالبان کی بڑھتی جارحیت جس کے نتیجے میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ہے۔ مذاکرات کے ذریعے امن ہی جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔‘افغانستان میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں رواں سال مئی میں اس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب امریکی قیادت میں فوجی اتحاد نے ملک سے انخلا کے آخری مرحلے کا آغاز کیا جو رواں ماہ کے ٓخر تک مکمل ہو جائے گا۔