Zahir Jaffer, parents' names placed on ECL: Sheikh Rashid

اسلام آباد: (اے یو ایس ) پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نور مقدم قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔منگل کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم کی صدارت میں قائم کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نور مقدم قتل کیس کے تمام ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی منظوری دے دی ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پہلے مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر ملزمان کے نام بلیک لسٹ میں شامل کر دیے گئے تھے تاہم اب انھیں ای سی ایل میں بھی ڈال دیا گیا ہے۔ای سی ایل میں شامل ہونے والے ملزمان میں ظاہر جعفر اور اس کے والدین کے علاوہ دو گھریلو ملازمین کے نام شامل ہیں۔واضح رہے کہ سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کو ظاہر جعفر نے 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں اپنے گھر پر قتل کر دیا تھا۔

پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا تھا جبکہ ا±ن کے والدین کی گرفتاری 25 جولائی کو عمل میں آئی تھی۔اس سے قبل پیر کو عدالت نے ملزم کے والدین کی جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 23 اگست تک توسیع کر دی تھی اور توقع ہے کہ مرکزی ملزم کو اگلے ہفتے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔پانچ اگست کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ضمانت کی ان درخواستوں کو خارج کرنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے ایڈشنل سیشن جج محمد سہیل نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم ظاہر جعفرنے نور مقدم کا قتل کیا اور اس قتل کی تفتیش کے دوران مزید کردار سامنے آئے ہیں۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ ملزم ذاکر جعفر نے مرکزی ملزم کی مدد کی، جان بوجھ کر حقائق چھپائے اور پولیس کو واقعہ کی بروقت اطلاع نہیں دی جو کہ نتیجتاً مرکزی ملزم کو قتل کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ وقوعہ کے بعد شواہد چھپانے کی بھی کوشش کی گئی، ریکارڈ کے مطابق ملزم نے نور مقدم کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بہیمانہ قتل کیا اور ان کا سر دھڑ سے جدا کر دیا۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم اور اس کے والد کے درمیان کالز کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے ذاکر جعفر بھی جرم میں شریک ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ استغاثہ کے مطابق ملزم قتل کی واردات کے دوران اپنے بیٹے سے مسلسل رابطے میں تھے اور ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو قتل میں شریک ثابت کرنے کے لیے ریکارڈ پر کافی مواد موجود ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا کوئی مواد ریکارڈ پر موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرتا ہو کہ ملزمان اور مدعی پارٹی میں کوئی دشمنی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ان دونوں شریک ملزمان (والدین) نے سنگین نوعیت کے جرم میں معاونت کی اور وہ ضمانت کے غیر معمولی ریلیف کے مستحق نہیں ہیں۔