As Taliban violence spikes, Afghanistan's rights situation deteriorates

بروسلز : یورپی تھنک ٹینک ای ایف ایس اے نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جنگ زدہ ملک میں خواتین کے وجود اور انسانی حقوق کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال واقعی ایک تشویشناک صورت حال ہے کیونکہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان نے جنگ زدہ ملک میں شریعت کے اپنے بنیاد پرست نظریہ کو دوبارہ نافذ کر دیا ہے۔

یورپی فاؤنڈیشن فار ساؤتھ ایشین سٹڈیز (ای ایف ایس اے ایش ) کے مطابق ، افغان حکومت کے ساتھ حالیہ تنازعہ میں طالبان شہریوںکا قتل ، مساجد کو تباہ کرنے اور خواتین پر حملہ کرکے انسانی حقوق مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان نے اپنے شریعت کے سخت گیر ورژن کو دوبارہ ان علاقوں میں نافذ کر دیا ہے جو اس نے اپنے کنٹرول میں لے لئے ہیں۔ اسکولی تعلیم ، لباس ، مظاہرے،احتجاج اور ملازمتوں کے حوالے سے خواتین کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

ای ایف ایس اے ایس کے مطابق ، ہیومن رائٹس واچ(ایچ آر ڈبلیو) نے دو حالیہ اشاعتوں میں،طالبان کی طرف سے کیے جانے والے مظالم کو اجاگر کیا۔ 23 جولائی کی اپنی رپورٹ میں ‘افغانستان: قندھار میں طالبان کے ‘مظالم کے خطرے ‘ عنوان سے پتہ چلا کہ صوبہ قندھار کے اضلاع کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ، طالبان نے حکومت کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے سینکڑوں باشندوں کو حراست میں لے لیا تھا۔اقوام متحدہ کی انسانی تنظیم کے سربراہ انسانی امور اور ہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹرجنرل مارٹن گریفتھس نے پیر کے روز کہا کہ وہ افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر ‘گہری تشویش ‘میں ہیں۔

جہاں صرف پچھلے مہینے میں ہلمند ، قندھار اور ہرات صوبوں میں شہریوں پر حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان بچے ، خواتین اور مرد مشکلات میں ہیں اور انہیں ہر روز تشدد ، عدم تحفظ اور خوف کی فضا میں رہنا پڑتا رہاہے۔ خواتین کے وجود اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہے۔ گریفتھس نے کہا کہ افغانستان میں 40 سالوں تک جنگ اور نقل مکانی کا دور چلا ہے ، اور اب موسمیاتی تبدیلی اور کوویڈ – 19 کی وجہ سے پیدا ہوئے حالات نے ملک کی نصف آبادی کو ہنگامی امداد کے بھروسے چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کی تنظیمیں افغانستان میں رہنے والے تمام شہریوں کو امداد اور مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔