The Strategic Significance of Afghanistan & Trans-Afghan Pipeline (TAPI)

توانائی تک رسائی کے لیے بڑھتی عداوت کے باعث عالمگیر پیمانے پر تعلقات نہایت سخت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ مخصوص طور پر ترتیب وار دیکھا جائے تو توانائی تک رسائی کے لیے حریف فوج عوامی قوت کے سرچشمہ کے طور پر ہو سکتے ہیں۔ اصل توجہ کا مرکز ایشیا میں تیل اور گیس کے پٹرول کے بے پناہ ذخیرے ہیں جس کے لالچ میں امریکہ ، چین اور روس ٹکراو¿ کا جائزہ لے رہے ہیں جسے نیو گریٹ گیم کہا جاتا ہے۔ جیو پولیٹیکل نظریہ کے مطابق عالمی سطح پر بالا دستی یوریشیائی وسیع و عریض قطع اراضی پر حصول قوت کا ایک عنصر ہے اوروسطی ایشیا میں اثرو رسوخ حاصل کرنا اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔


چونکہ چین ،روس اور امریکہ تینوں ہی اپنے اپنے مفادات دیکھ رہے ہیں اس لیے امریکہ روس اور چین کو اپنا حریف سمجھتا ہے ۔یہی وجہ ہے امریکہ ٹی اے پی آئی پائپ لائن کے توسط سے وسطی ایشیائی توانائی کو اپنے حریفوں سے جنوب ایشیا کی جانب مربوط کر دے۔ وسطی و جنوبی ایشیا میں اپنا علاقہ ہونے کے باعث افغانستان ایک توانائی سہار ا ہے اس لیے وہ امریکہ کے ضروری مقاصد کی تکمیل کے لیے کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ امریکہ کی اضافی ضرورتوں اور تقاضوں میں وسطی ایشیا میں ایک حکمت عملی کے ساتھ موجودگی کا ہونا ضروری ہے، مزید برآں تاجکستان، افغانستان، پاکستان ، ہندوستان (ٹی اے پی آئی) پائپ لائن امریکہ کو ایران کو، جو روس کی منظور شدہ آئی پی آئی پائپ لائن کے ذریعہ جنوبی ایشیا کو سپلائی کا مقابلہ کررہا ہے، الگ تھلگ کردینے کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔

تاہم افغانستان کے سیکورٹی معاملات ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، ہندوستان پائپ لائن بنانے کے کی کوششوں کو الجھا ئے دے رہے ہیں۔ افغانستان میں آسانی سے حکومت بنانے کی طالبان کی صلاحیت کی روشنی میں امریکہ 2001تک اسلامی نظام سے تکرار کرتا رہا۔ طالبان نے ان نااہل سپہ سالاروں کے ذریعہ، جو افغانستان میں مشترکہ تنازعہ کو بڑھا رہے تھے، خود کو نمایاں کر لیا۔امریکہ نے 1980کے عشرے میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف اپنی درپردہ جنگ کے دوران کثیر تعداد میں ان قائدین جنگ کو اسلحہ سے آراستہ کیا تھا۔ چلے جانے کے اپنے طریقہ کار کی ایک خصوصیت کے طور پر ، امریکہ مالیاتی بہتری کو تسلیم کرتا ہے کیونکہ ٹی اے پی آئی کے سفری اخراجات افغانستان میں اسلامی بنیاد پرستی کی کی چمک کو مدھم کردیں گے۔ روس اور چین جو بنیاد پرست خطرے سے یکساں طور پر عاجز ہیں نیز امریکہ کے توانائی کے تبادلے کا ایک حصہ بنائے جانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہے ہیں، اپنی حاکمانہ رسائی میں اپنی حکمت عملی بھی وضع کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان کو خود اپنے ہتھیاروں ، جرات و شجاعت اور حوصلے اور توانائی کے پراجکٹوں سے آراستہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان میں ہندوستان ، پاکستان اور ایران بھی ٹکراو¿ کے تعاقب میں جا رہے ہیں۔