Several cities in Pakistan do not have safe drinking water

پشاور: پاکستان میں شہریوں کوپینے کا صاف پانی نہیں مل رہا ہے۔ پاکستان کے بیشتر بڑے شہروں،جن میں میگا سٹی بھی شامل ہیں، میں یہی حال ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں نفرت انگیز صورتحال کے بارے میںپاکستان حکومت نے اس کا انکشاف وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے ایوان پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)کی مسرت رفیق مہیسر کے محفوظ پینے کے پانی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ، فراز کی جانب سے پیش کئے گئے اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان آبی وسائل ریسرچ کونسل(پی سی آر ڈبلیو آر) کی جانب سے جن 29 شہروں میں زیر زمین پانی کی جانچ کی گئی تھی ، ان میں سے 20 شہر ایسے ہیں جہاں مختلف ذرائع سے 50 فیصد سے زائد پانی کو غیرمحفوظ پایا گیا۔ ڈان کی رپورٹ پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق سندھ اور گلگت کے تین شہروں میرپورخاص اور شہید بے نظیر آباد (نواب شاہ) میں 100 فیصد زیر زمین پانی پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔

پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق ، جن شہروں میں زیر زمین پانی کا 50کونسل برائے فیصد سے زیادہ گندہ ہے ، وہ ملتان (94 فیصد) ، کراچی (93 فیصد)، بادین (92 فیصد)سرگودھا (83 فیصد)، حیدرآباد (80 فیصد) ، بہاولپور (76 ) فیصد، سکھر (67 ) فیصد، فیصل آباد (59 ) فیصد، پشاور (58 فیصد)، ٹنڈو اللہ یار (75 ) فیصد، شیخ پورہ، ایٹہ آباد اورخصدار (55 فیصد) لورلائی (54 ) فیصد، کوئٹہ ( 53 فیصد) اور گجرانوالا ( 50 ) فیصد شامل ہیں۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) گلگت – بلتستان میں تو حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ وہاں بنیادی سہولات کے لیے ترستے لوگ روزانہ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ بدتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کے لوگ سیوریج کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے پریشان طلبا دھرنا دے رہے ہیں۔ انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف ہائی وے پر احتجاج کرنے والے طلبا میں شامل ایک نے بتایا کہ وہ سیوریج کا پانی پینے کو مجبور ہیں۔ وہیں ،گلگت- بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے کہا کہ ‘فیس ادا کرنے کے بعد بھی اساتذہ نہیں آتے۔ ہم انتظامیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے لیے اساتذہ کا بندوبست کریں اور ایسے اساتذہ کے خلاف کارروائی کریں جو تنخواہ لیتے ہیں لیکن اسکول نہیں آتے۔واضح ہو کہ غلام کشمیر (گلگت بلتستان)میں حالیہ ووٹنگ کے دوران کئی علاقوں میں زبردست تشدد ہوا۔

اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر دھاندلی کی تحقیقات نہ ہوئی تو وہ ہندوستان کی مدد لینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں پی ٹی آئی نے پہلی بار حکومت بنائی اور وزیراعظم عمران خان نے سیاستدان عبدالقیوم نیازی کو غلام کشمیر کا اگلا وزیراعظم مقرر کر دیا ۔ قابل غور ہے کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ سب دکھاوا ہے۔ پاکستان غیر قانونی طریقے سے قبضہ کی ہوئی زمین پر انتخابات نہیں کروا سکتا۔ ہندوستان نے اس معاملہ پر اپنا سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ پاک مقبوضہ کشمیر میں ہوئے انتخابات پر شد یدمخالفت کا اظہار کرتے ہوئے ، وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے کہا تھا کہ پاکستان کا ہندوستانی علاقوں پر کوئی بنیاد اور حق نہیں ہے اور اسے جلد از جلد ہندوستان کے زیر قبضہ تمام اراضی اور علاقے خالی کر دینا چاہیے۔