Taliban advanced to Kabul, US forces transporting US diplomats to Hamid Karzai international Airport

کابل: طالبان کی مسلسل پیشقدمی اور ملک کے 34میں سے بارہ صوبوں کے دارالخلافہ پر ان کے قبضہ کے بعد جہاں ایک طرف طالبان نے افغانستان کے کم و بیش درجن بھر صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے کے بعد اب قومی دارالخلافہ کابل کی جانب بڑھنا شروع کر دیا۔وہیں دوسری طرف امریکہ نے اپنے سفارت کاروں کو کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایر پورٹ روانہ کرنا شروع کر دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی 600سے زائد امریکی فوجی بھی افغانستان میں اتر گئے۔امریکہ نے 1000فوجی قطر بھی پہنچا دیے اور خلیج میں رونالڈ ریگن بیڑے کو الرٹ کر دیا ہے کہ ضرورت پڑتے ہی 24تا48گھنٹے کے اندر امریکی فوجیوں کو کرزئی ہوائی اڈے پر تعینات کیا جا سکے۔فی الحال افغانستان کی صورت حال نہایت خطرناک و دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے۔ پنٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی وزار خارجہ افغانستان میں گراو¿نڈ کمانڈروں سے رابطے میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ جب امریکی سفارت کاروں کا افغانستان سے مکمل انخلا عمل میں آجائے گا تو افغانستان خونریزی و تباہی کا وحشتناک منظر پیش کرے گا۔ان حالات کے پیش نظر اشرف غنی کی قیادت والی افغان حکومت نے بھی حفظ ماتقدم کے طور پر طالبان کو اقتدار میں حصہ دینے کی پیشکش کردی۔

واضح ہو کہ جمعرات و جمعہ کی درمیانی شب میں طالبان نے قندھار صوبہ کے قندھار سٹی نام سے ہی پکارے جانے والے دارالحکومت پر بھی قبضہ کر لیا۔واضح ہو کہ قندھار افغانستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ لیکن اس شہر پر قبضہ سے پہلے اور غزنی پر قبضہ کے فوری بعد آنے والے دنوں کی خونریزی کی شکل اختیار کر لینے کی ممکنہ صورت حال کا اندازہ لگاتے ہوئے اشرف غنی کو جبراًطالبان سے یہ پیشکش کرنا پڑی تاکہ ملک کو خانہ جنگی کی آگ میں جھلسنے سے بچایا جا سکے۔ افغان میڈیا کے مطابق ملک میں خانہ جنگی روکنے کیلئے افغان حکومت کی جانب سے ایک نیا امن منصوبہ متعارف کروایا گیا ہے ، جس کے تحت اشرف غنی حکومت نے طالبان کو اقتدار میں حصہ دینے کرتے ہوئے اس کے عوض طالبان سے فوری طور پر شہریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔طالبان افغانستان کے دارالحکومت کے قریب پہنچ چکے ہیں اور 30 دن کے اندر کابل کا محاصرہ کیا جا سکتا ہے کیوں کہ طالبان نے افغانستان کے اہم شہر پلِ خمری کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا اور طالبان دارالحکومت کابل سے تقریبا 200 کلومیٹر دور رہ گئے۔

مقامی عہدیداروں کے مطابق طالبان نے دارالحکومت کابل سے 140 میل دور شمال میں اہم افغان شہر پلِ خمری پر قبضہ حاصل کرلیا ہے جس سے طالبان کو دار الحکومت کابل کو شمال اور مغرب سے ملانے والے اسٹریٹیجک روڈ جنکشن کا کنٹرول مل گیا ہے اور اب تک صرف 5 روز کے دوران10 صوبائی دارالحکومتوں پرقبضہ کرچکے ہیں ، صوبے فراہ، ، بدخشاں ، بغلان ، نمروز ، جوزجان ، قندوز، سرائے پل ، تخار اورسمنگان پر بھی طالبان کا قبضہ ہے ، اس سے قبل ایبک ، قندوز ، تالقان ، شبرغان او ر زرنج بھی طالبان کے زیر قبضہ آچکے ہیں جب کہ طالبان صوبے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔مزید یہ کہ طالبان نے صوبے بلخ کے اطراف چاروں صوبوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس سے بلخ کے دارالحکومت مزارشریف پر بھی حملے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ، لڑائی میں تیزی آنے پر افغان شہر یوں کی بڑی تعداد دارالحکومت کابل آمد کا رخ کررہی ہے جب کہ کئی علاقوں میں شہری گھروں میں محصور ہیں ، ادھر یورپی یونین عہدیدار کا کہناتھا کہ طالبان افغانستان کی65 فیصد علاقوں پرقبضہ کرچکے افغانستان میں سینیئر قانون ساز نے بتایا ہے کہ طالبان نے کابل سے صرف 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر غزنی پر قبضہ کر لیا ہے۔

صوبائی کونسل کے سربراہ ناصر احمد فقیری نے بتایا کہ ’طالبان نے شہر کے کئی اہم علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے جن میں گورنر ا?فس، پولیس ہیڈ کوارٹرز اور جیل شامل ہیں۔‘ان کا کہنا تھا شہر کے کئی مقامات پر لڑائی جاری ہے لیکن صوبائی دارالحکومت کا زیادہ تر حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔طالبان کے ترجمان نے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے شہر پر قبضے کی تصدیق کی ہے۔ایک ہفتے سے کم وقت میں طالبان نے 10 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب ان کی نگاہیں شمالی کے سب سے بڑے شہر مزار شریف پر ہیں جو روایتی طور پر طالبان مخالف گڑھ سمجھا جاتا ہے۔جنوب میں طالبان کے حامی سمجھے جانے والے شہروں قندھار اور لشکر گاہ اور مغرب میں ہرات میں بھی لڑائی جاری ہے۔

بدھ کو رات دیر گئے طالبان نے قندھار میں قلعہ بند جیل پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک طویل محاصرے کے بعد مکمل طور پر فتح ہو گئی ہےاور سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر کے محفوظ مقام پر لے جایا گیا۔‘اس سے قبل بدھ کو افغان طالبان نے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کیا تھا۔ افغان میڈیا کے مطابق افغان ا?رمی چیف جنرل ولی محمد احمد زئی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ جنرل ہیبت اللہ علی زئی کا تقرر کیا گیا ہے لیکن ابھی تک افغان حکومت نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔فیض آباد پر قبضے کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کے رکن ذبیح اللہ عتیق کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ رات گئے سکیورٹی فورسز جو کئی دنوں سے طالبان سے لڑ رہی تھیں، شدید دباو¿ میں آگئیں۔دوسری جانب قندوز کے ایک مقامی رکن اسمبلی نے بدھ کو اے ایف پی کو بتایا کہ سینکڑوں افغان فوجی جنہوں نے ہفتے کے آخر میں طالبان کے شمالی شہر پر قبضہ کرنے کے بعد قندوز کے باہر ہوائی اڈے کے قریب پسپائی اختیار کی تھی، ہتھیار ڈال دیے ہیں۔