Young Afghan general takes fight against the Taliban to social media

کابل:(اے یوایس) طالبان کی فتوحات جہاں افغان حکومت کی افراتفری کو ظاہر کرتی ہیں وہی ایک نوجوان جنرل میدان جنگ اور سوشل میڈیا پر اپنی ساکھ کو بہتر بنا رہا ہے۔

طالبان نے رواں ہفتے شمال کے صوبائی شہر ایک کے بعد ایک فتح کر لیے جبکہ بعض مقامات پر حکومتی فورسز نے پسپائی اختیار کی یاں لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔تاہم لشکر گاہ جو طالبان کا مرکز ہے، وہاں افغان فوج سخت مزاحمت کرتی دکھائی دیتی ہے۔شدید لڑائی کے دوران صوبائی دارالحکومت کے دفاع کی قیادت 36 سالہ سمیع سادات کر رہے ہیں، جو جنوبی افغانستان کے اعلیٰ ترین فوجی افسر ہیں۔طالبان جو سوشل میڈیا پر فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے اور مقامی افراد کے ساتھ سیلفیوں کی بے تحاشہ تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں، نوجوان جنرل بھی ان کے خلاف لڑائی میں ٹوئٹر اور فیس بک کو ایک پی آر ٹول کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔

وہ اور 215 ویں کور میں ان کی کمان کے تحت 20 ہزار فوجیوں نے ہزاروں فالورز حاصل کیے ہیں۔ ان کے ٹویٹر اکاو¿نٹس پر جنرل کی فوجیوں کے ساتھ، نوجوان شہریوں کے ساتھ سیلفیوں اور مقامی دکانداروں سے ملنے کی بے تحاشہ تصاویر موجود ہیں۔بدھ کو افغان وزارت دفاع نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سمیع سادات کو پروموٹ کر دیا گیا ہے اور اب وہ ملک کی سپیشل فورسز کی سربراہی کریں گے۔ اس اعلان کا سوشل پلیٹ فارم پر وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا۔طالبان کی پیش قدمی کے باوجود سمیع سادات پرامید ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو لشکر گاہ سے ایک فون انٹرویو میں بتایا ‘کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ہم جیتنے والے ہیں۔”میں جانتا ہوں یہ ہمارا ملک ہے اور طالبان ناکام ہو رہے ہیں، وہ جلد یا بدیر ناکام ہو جائیں گے۔’سمیع سادات کے بارے میں ایک سکیورٹی سے وابستہ شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ‘وہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن سادہ لوح نہیں ہیں۔’ان کے ساتھ خفیہ ایجنسی میں کام کرنے والے ایک افغان جنرل کا کہنا تھا کہ ‘اس کا بہت سٹریٹجک وڑن ہے اور جو ہو رہا ہے اس کا بہت گہرا تجزیہ کرتے ہیں۔’سمیع سادات جو لندن کے مشہور کنگز کالج سے گر یجویٹ ہیں، نے اپنے کیریئر کا آغاز افغان وزارت داخلہ سے کیا تھا۔انہوں نے اپنی فوجی ٹریننگ جرمنی، برطانیہ، پولینڈ اور امریکہ سے حاصل کی تھی اور وہ افغانستان میں جاسوس ایجنسی این ڈی ایس میں بھی کام کر چکے ہیں۔