Chinese firm reluctant to resume work on Dasu hydropower

پشاور: گذشتہ ماہ پاکستان کے داسو میں ایک بس دھماکے میں اپنے مزدوروں کی ہلاکت کے بعد چینی کارکن پاکستان کے داسو منصوبے میں کام کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں داسو ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ پر کام پھر سے شروع کرنے پر واٹر اینڈ الیکٹریسٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور چین کی گیڑوبا گروپ کمپنی کے درمیان بات چیت بدھ کو بے نتیجہ رہی۔ چینی سفیر نے بھی مذاکرات میں حصہ لیا۔

پاکستانی مذاکرات کاروں کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے ملتوی ہونے والے مذاکرات چینی سفیر نونگ رونگ کی موجودگی میں منعقد ہوئے۔ لیکن چینی کمپنی سکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے سے گریزاں تھی۔ انہو ںنے بتایا کہ حالانکہ ، دونوں فریقوں نے کام کی جلد بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کا ایک اور دور منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ واپڈاکے چیئرمین نے چینی کمپنی کے نمائندوں اور سفیر کو اوپری اور نچلے کوہستان اور کولائی پلاس اضلاع میں پاکستانی فورسز کی تعیناتی کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ضلع کوہستان میں تعینات پاکستانی فوج کی بریگیڈ چینی شہریوں کو کارا کورم ہائی وے کے راستے کام کرنے اور متعلقہ کیمپوں تک لے جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے چینی ایجنسیوں اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے بس دھماکے کی تحقیقات کی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔واضح ہو کہ 13جولائی کو داسو میں ہونے والے بس دھماکے میں9چینی مزدوروں سمیت 13 افراد کی ہلاکت ہو ئی تھی۔