Imran Khan removes Asim Bajwa just to please China

اسلام آباد:پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اپنے سدا بہار دوست چین کو خوش کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ چین کے اشارے پر اپنے پسندیدہ عہدیداروں کی قربانی دینے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کی تازہ مثال لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)عاصم سلیم باجوہ کو چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ خالد منصور کو اس عہدے کی ذمہ داری سونپنا ہے۔عاصم سلیم باجوہ کو 3 اگست کو سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے عہدے سے اچانک ہٹانا پاکستان میں سی پی ای سی منصوبوں میں بدعنوانی اور شفافیت کی کمی کا مسئلے کو سامنے لاتا ہے۔ ان جیسے داغدار شخص کو تمام اہم حکام کے سربراہ کے طور پر منتخب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی ریاستی مشینری سی پی ای سی منصوبوں سے کس قسم کی مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ باجوہ کو سی پی ای سی اتھارٹی کے سربراہ کے عہدے سے اس لئے نہیں ہٹایا گیا کیونکہ ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات تھے ، بلکہ پاکستانی قیادت پر چین کا دباو¿ تھا۔ دراصل چین سی پی ای سی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار اور چینی کارکنوں پر حملوں سے ناخوش تھا۔ یہی وجہ تھی کہ چین نے پاکستان میں کام کرنے والے چینی اہلکاروں کی حفاظت کا براہ راست کنٹرول لینے کا فیصلہ کیا ہے ، جس سے پاکستان اس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے۔ باجوہ نے 2012 سے 2016 تک پاکستان آرمڈ فورسز کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی سربراہی کی اور نومبر 2019 میں سی پی ای سی اتھارٹی کا عہدہ سنبھالا۔ اتفاق سے ، وہ اپریل 2020 میں انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ پر وزیر اعظم کے خصوصی مشیر کے طور پر بھی منتخب ہوئے تھے۔ اور ایک عہدہ جو انہیں بدعنوانی کے متعدد الزامات کے تناظر میں چھ ماہ کے بعد چھوڑنا پڑا۔

اگست 2020 میں ایک پاکستانی صحافی ، احمد نورانی نے ‘فیکٹ فوکس’پورٹل پر اس کو شائع کرکے باجوہ کے رویے میں گھلے گھوٹالوں کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی۔ تب یہ انکشاف ہوا کہ باجوہ کی بیوی ، بھائی اور دو بیٹوں کے پاس 4 ممالک میں 39.9 ملین ڈالر کی پزا فرنچائزی سمیت 99 کمپنیوں کے مالک ہیں۔ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ باجوہ کے چھوٹے بھائیوں نے 2002 میں اپنا پہلا پاپا جان پزا ریسٹورنٹ کھولا تھا ، جب وہ اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ باجوہ خاندان کی کمپنیوں نے اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے تقریباً 52.2 ملین ڈالر اور متحدہ ریاست میں جائیداد خریدنے کے لئے 14.5 ملین خرچ کئے۔