Pakistani dreaded terrorist Usman killed in Kulgam

سرینگر: جموں و کشمیر کی قومی شاہراہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ایک پاکستانی دہشت گرد کے ضلع کولگام میں ایک مقابلے میں مارے جانے سے سیکورٹی فورسز کو ایک اہم کامیابی ملی ہے۔ عہدیداروں نے یہ جانکاری دی۔

انہوں نے کہا کہ رات بھر چلی مڈ بھیڑ اس وقت شروع ہوئی تھی ، جب ایک عمارت میں چھپے دو دہشت گردوںنے جموںسری نگر قومی شاہراہ پر بی ایس ایف کے قافلے پر گولی باری شروع کر دی۔ کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی)وجے کمار نے کہا کہ مقتول دہشت گرد کی شناخت پاکستان کے عثمان کے طور پر ہوئی ہے ، جو گزشتہ چھ ماہ سے سرگرم ایک خطرناک دہشت گرد تھا۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے کلگام کے مالپورہ میر بازار علاقے کے سری نگر جموں کشمیر قومی شاہراہ پرجمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تین بجے دہشت گردوں نے بی ایس ایف کے قافلے پر گولی باری کی جوابی کارروائی کی تو مڈ بھیڑشروع ہوگئی۔

آئی جی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے جانکاری مل رہی تھی کہ دہشت گرد بارہمولہ سری نگر روڈ یا قاضی گنڈ پنتا چوک سے قوامی شاہراہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کمار نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس وجہ سے پولیس اور سیکورٹی فورسز تیار تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا جواب کتنا اچھا رہا ہے کہ جوابی کارروائی کے دوران دہشت گرد کو فرار ہونے کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ جب بی ایس ایف کا قافلہ آرہا تھا تب دو دہشت گردوں نے ایک بڑی عمارت سے اندھا دھند گولی باری شروع کر دی ، لیکن لیکن ہمارا کوئی جانی نقصان ہوا نہ کوئی زخمی ہوا ۔

کمار نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مڈ بھیڑ شروع ہو گئی۔ جی او سی(جنرل آفیسر کمانڈنگ آرمی جنوبی کشمیر) وکٹر فورس اور میں نے رات کے دوران آپریشن کی نگرانی کی۔ ہم نے راکٹ لانچر استعمال کیا اور ایک دہشت گرد کو مار ڈالا۔ انہوں نے کہا ، چونکہ اندھیرے میں تلاش کرنا مشکل تھا ، اس لیے ایک پاکستانی دہشت گرد کی شناخت ہوئی ، جس کی شناخت عثمان کے نام سے ہوئی ، جو گزشتہ چھ ماہ سے سرگرم تھا۔اس نے بتایا کہ ایک اے کے 47 رائفل ، میگزین ، دستی بم ، آر پی جی -7 راکٹ لانچر ، انکاو¿نٹر سائٹ سے برآمد ہوئے۔ کمار نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دہشت گرد کوئی بڑا منصوبہ بنا رہے تھے۔