Taliban take control of Kabul,three people fall down from aircraft

کابل: صدر اشرف غنی کے اپنے معتمدین خاص اور خاتون اول کے ہمراہ افغانستان چھوڑ کر تاجکستان روانہ ہونے کے ساتھ ہی اتوار اور دوشنبہ کی درمیانی شب میں طالبان نے آخر کار20سالہ جنگ جیت کر پورے افغانستان پر باقاعدہ تسلط قائم کر لیا۔ کابل پر طالبان کے قبضہ اور اشرف غنی کے ملک چھوڑ کر بھاگ جانے کی خبریں عام ہوتے ہی افغانستان سے نکلنے کے خواہاں لوگوں کا ایک ہجوم کابل کے حامد کرزئی ہوائی اڈے میں گھس کر رن وے پر چڑھ دوڑا ۔ہوجوم کو منتشر کرنے کے لیے وہاں تعینات امریکی فوجیوں نے فائرنگ کی لیکن کچھ افراد ہوائی جہاز کے پہیوں سے لٹک کر فضا میں بلند ہونے میں کامیاب ہو گئے لیکن چند لمحہ بعد ہی وہ تینوں جہاز سے گر کر ہلاک ہو گئے۔مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سینکڑوں لو کابل ایئر پورٹ سے اڑنے والے امریکی سی 17 طیارے کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے ہیں اور اس سے لٹکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق طیارے نے جب اڑان بھری تو جہاز کے پہیے میں گھسے تین افراد نیچے گر گئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ افراد زور دار آواز کے ساتھ لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر گر کر ہلاک ہوگئے۔ اسی دوران سلامتی دستوں کی فائرنگ میں ایرپورٹ پر موجود ہجوم میں پانچ افراد شدید زخمی ہو جانے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حالانکہ کابل میں داخل ہونے سے پہلے ہی طالبان نے اعلان کر دیا تھا کہ افغانستان امارت اسلامیہ کے مجاہدین طاقت یا جنگ کے ذریعہ شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔اب مجموعی طور پر افغانستان کے دو تہائی سے بھی زائد علاقوں پر طالبان کی عملداری قائم ہو چکی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی 20سالہ جنگ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔اس دوران طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے کہا کہ جنگ ختم ، طالبان بر سر اقتدار آگئے اور طالبان تنہا نہیں رہنا چاہتے ، بین الاقوامی برادری سے تعلقات کے خواہاں ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ نئے نظام حکومت کے شکل جلد واضح ہو جائے گی۔نیز سرزمین افغانستان کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔لیکن یہ بھی ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ملک ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت بھی نہ کرے۔انہوں نے روس اور امریکہ کی جانب اشارہ کرتے اور دیگر سوپر طاقتوں کو درپردہ انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کو امید ہے کہ اب غیر ملکی افغانستان میں ناکام تجربہ نہیں دوہرائیں گے۔

انہوں نے زبردست جوش و خروش کے ساتھ کہا کہ آج طالبان کو 20 سال کی جدوجہد اور قربانیوں کا پھل مل گیا اور طالبان کسی کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے اور وہ تمام افغان رہنماو¿ں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ہر قدم ذمہ داری سے اٹھائیں گے۔قبل ازیں کابل میں داخل ہو جانے والے طالبان کو کسی قسم کے خون خرابے کے بغیر پورے افغانستان پر باقاعدہ قبضہدینے کی نیت سے قومی مفاہمت کی کونسل اعلیٰ کے سربراہ عبد اللہ عبد اللہ ، سابق صدر حامد کرزئی اور حزب اسلامی کے سابق سربراہ گلبدین حکمت یار نے اتحاد کر کے ایک عارضی کونسل تشکیل دی جس کا مقصد طالبان کو پر امن طریقہ سے اقتدار سوپنا اور افغان سلامتی دستوں اور افغانستان اسلامی امارات کی فوجوں سے کابل شہر کو تحفظ دینے اور کسی قسم کی شورش برپا نہ کرنے کی تلقین کرنا تھا۔ان تینوں نے کابل کو لوگوں کو مختلف پیغامات ارسال کیے۔ عبد اللہ عبداللہ نے اشرف غنی پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ کر فرار ہو گئے ۔عبداللہ عبداللہ نے کابل کے گلی کوچوں کا بھی دورہ کیا اور لوگوں کو مبارکباد دی جنہوں نے عبد اللہ عبداللہ سے مصافحہ اور معانقہ کیا اور اخیر اخیر تک ان کے ساتھ رہنے پر ان سے اظہار تشکر کیا۔حامکد کرزئی نے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ انہیں خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اور ان کے بچے اب بھی افغان دارالخلافہ میں ہی رہ رہے ہیں۔