Afghan nationals in India fear for kin

نئی دہلی: (اے یو ایس ) افغانستان کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ طالبان نے دارالحکومت کابل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ہندوستان میں رہنے والے افغان شہری بھی اس حوالے سے بہت پریشان ہیں۔ بہت سے افغان شہری اپنے مسائل لے کر دہلی میں واقع چانکیہ پوری افغان سفارت خانے پہنچ رہے ہیں۔ لیکن انہیں یہاں سے کوئی مدد نہیں مل رہی ہے۔

افغان شہری اپنے ملک میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے کوئی رابطہ نہ ہونے کے بعد پریشان ہیں۔ وہ ہر قیمت پر جاننے کےبے قرار ہیں کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔ بدلتی صورتحال کے پیش نظر دہلی پولیس نے یہاں سیکورٹی سخت کر دی ہے اور سفارت خانے کے باہر سڑک بھی بند کر دی ہے۔افغان شہری فرہاد فرہاد دہلی کے وزیر پور علاقے میں رہتے ہیں ۔ ان کا پورا خاندان ہرات میں ہے۔ 6 دن سے ہر کسی کے فون بند آرہے ہیں۔ کسی سے بات نہیں ہو پا رہی ہے اور نہ ہی نئی دہلی میں افغانستان کے سفارت خانے سے کوئی معلومات مل پا رہی ہے۔

فرہاد کے والد کو دو سال قبل طالبان نے گولی مار دی تھی اوران کی موت ہو گئی تھی۔افغان سفارت خانے کے باہر کھڑے دیویانگ علا محمد پانچ سال سے ہندوستان میں مقیم ہیں۔ وہ پیر کو افغان سفار ت خا نے میں پاسپورٹ کی تجدید کے لیے آیا تھا ، جو نہیں ہو سکا۔ اس کا آدھا خاندان افغانستان میں ہے۔ وہ اس کے لیے بہت پریشان ہے۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والی ایک کارکن ادیبہ ڈیڑھ سال قبل ہندوستان آئی تھی۔ادیبہ کہہ رہی ہے کہ اس کا خاندان اب بھی وہاں محفوظ ہے لیکن وہ طالبان کو جانتی ہے اس لیے ان پر اعتماد نہیں کر سکتی۔ وہ اب ہندوستان سے امریکہ جانا چاہتی ہے کیونکہ اس کے پاس ہندوستان میں کوئی کام نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان کا خواتین کے ساتھ رویہ بہت غلط ہے۔حیدر آباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی میں تقریباً150افغان طلبا زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے ایک طالبعلم سمیع اللہ نے کہا کہ ہمارے گھر والے گھر سے باہر نہیں نکل رہے ۔اور اب خاموشی ہے۔افغان طلبا یونین کے صدر محمد یوسف نے کہا کہ کچھ طلبا کے ویزے کی میعاد اگست اواخر مین ختم ہو جائے گی اور کچھ کی سال رواں کے اواخر میں ۔ ہم حکومت ہند سے التماس کرتے ہیں کہ ان کے ویزوں کی مدت میں توسیع کرے اور مالی امداد بھی دے۔