Afghans have broken ‘shackles of slavery’, Pakistan PM Imran Khan

اسلام آباد: (اے یو ایس ) افغانستان کے حوالے سے اپنے پہلے بیان میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’افغانستان میں انھوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔‘ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان بھر میں یکساں نصاب تعلیم کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی کے نصاب کی وجہ سے معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ غلام ذہن کبھی بھی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ غلامی کی زنجیریں توڑنا بہت ضروری ہے۔نصاب میں انگریزی زبان کے استعمال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی بچہ انگریزی تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ ان کی پوری ثقافت اپنا لیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں (لوگوں) نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں‘ اور زور دیا کہ ’غلام ذہن کبھی بھی بڑے کام نہیں کر سکتا۔واضح ہو کہ افغانستان میںطویل جنگ کا اتوار کے روز اس وقت خاتمہ ہو گیا جب طالبان ملک کے دارالخلافہ کابل میں فاتحانہ انداز سے داخل ہو گئے اور صدر اشرف غنی اپنے قریبی ساتھیوں اور خاتون اول کے ہمراہ ملک سے فرار ہو گئے۔درجہ اول تا پنجم یکساں نصاب تعلیم کے پہلے مرحلہ کا اجرا کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ماضی کے نصاب تعلیم میں ملکی اشرافیہ مستفید ہو رہی تھی۔ ہمیں معلوم ہے کہ یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ میں مشکلات پیش آئیں گی۔کسی دوسری قوم کے کلچر کو انپانا ذہنی غلامی کی علامت ہے۔ غلام ذہن کبھی بڑا کام نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ غلامی کی زنجیریں توڑنا بہت ضروری ہے۔وزیراعظم عمران خان نے طبقاتی تقسیم کے خاتمہ کے لئے یکساں نصاب تعلیم کا اجرا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی کے بعد مختلف نصاب تعلیم رائج کرکے ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا، ماضی کے نصاب کی وجہ سے معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہو چکا تھا،غلامی کی زنجیریں توڑنا بہت ضروری ہے، غلام ذہن کبھی بھی بڑا کام نہیں کر سکتا، ماضی کے نصاب تعلیم سے ملکی اشرافیہ مستفید ہو رہی تھی ،یکساں نصاب تعلیم سے نوجوانوں میں اخلاقی اطوار بہتر بنانا ہے، تعلیم کےساتھ ساتھ انسانیت اور اخلاقیات کو بھی بہتر بنانا ہو گا ، اقلیتوں کو بھی ان کے اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم دینی چاہیئے۔