Overthrow was largely peaceful,the general public is happy, says Taliban spokesman Mujahid

کابل: افغان دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے پیر کو کہا کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اور ملک کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی ۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ، جن کے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ پر 2لاکھ87ہزار فالوور ہیں اور جو طالبان کی صوبہ در صوبہ قبضہ کے حوالے سے 24گھنٹے تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے رہے ہیں ،کہا کہ متضاد رپورٹوں کے باوجود یہ کم و بیش پر امن تختہ پلٹ تھا ۔مجاہد نے ایک ٹوئیٹ میں ایک ویڈیو بھی شئیر کیا ہے جو کابل کا منظر پیش کر رہا ہے جس میں شہر کے مختلف مقامات پر طالبان انتہاپسندوں کو تعینات دکھایا گیا ہے۔مجاہد نے دعویٰ کیا کہ عوام الناس مجاہدین کی آمد سے خوش اور سلامتی و حفاطتی بندوبست سے مطمئن ہے۔قبل ازیںطالبان کے نائب رہنما ملا عبدالغنی برادر نے اعلان کیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد اب طالبان ملک کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

ملا برادر نے کہا کہ ہم اہل وطن کو بہتر زندگی فراہم کریں گے اور ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے کام کیا جائے گا۔ملا برادر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد بیشتر ممالک اپنے سفارتکاروں اور عملے کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔طالبان کا کابل پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد صدر اشرف غنی ملک چھوڑ چکے ہیں اور مزید ہزاروں افغان شہری بھی یہاں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ملک میں سخت شرعی قانون نافذ کرے گا اور افغانستان کے اسلامی امارت کے نام کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کے مذاکرات کار سہیل شاہین نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے مجاہدین کو حکم دیا ہے کہ وہ بغیر اجازت لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہوں۔

شاہین نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان نے مجاہدین کو احکامات دیے ہیں اور ایک بار پھر انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔ کسی کی جان ، مال اور عزت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور مجاہدین ان کی حفاظت کریں گے۔دریں اثنا ، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان نے ایک اعلیٰ طالبان رہنما ملا محمد رسول اخوند کو جیل سے رہا کر دیا ہے۔ رسول طالبان لیڈر شپ کونسل کے سابق رکن ہیں اور طالبان سے الگ ہونے والے دھڑے کے رہنما رہے ہیں۔ایک اور پیش رفت میں ، طالبان نے کابل میں قومی سلامتی جیلوں کے ڈائریکٹوریٹ جنرل سے ہزاروں قیدیوں کو رہا کیا ہے ، جن میں تحریک طالبان پاکستان کے سابق نائب سربراہ مولوی فقیر محمد بھی شامل ہیں۔طالبان نے ابھی تک پروان صوبے کے دارالحکومت چھاریکار اور پنج شیر کے علاقے پر اپنے کنٹرول کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان دو علاقوں کے علاوہ طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان نے خطے کی تمام جیلیں بند کر دی ہیں اور اپنے تمام قیدیوں کو رہا بھی کر دیا ہے۔