Taliban announces general amnesty to all govt employees across Afghanistan

کابل: امریکی افواج کے انخلا ، طالبان حکمرانوں کی جانب سے ملک میں 20 سالہ جنگ کے فیصلہ کن خاتمہ کے اعلان اور صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہوجانے اور پھرپورے افغانستان پرمکمل قبضے کے بعد طالبان نے خوف و ہراس کی فضا کے درمیان پورے ملک میں حکومتی ملازمین سمیت ہر کسی کو ‘ عام معافی’ کا اعلان کرتے ہوئے تمام لوگوں سے کام پر واپس لوٹنے کی اپیل کی ہے۔ طالبان کے اسلامی امارات کے ثقافتی کمیشن کے ممبر انعام اللہ سمن غنی نے منگل کے روز پورے افغانستان میں معافی کا اعلان کیا اور خواتین سے درخواست کی کہ وہ منگل کو ان کی حکومت میں شامل ہوں۔انعام اللہ سمن غنی نے یہ ریمارکس افغانستان کے سرکاری ٹی وی پر دیئے ، جو اب طالبان کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امارت اسلامی نہیں چاہتی کہ خواتین کو پریشان کیا جائے۔

طالبان امارت اسلامیہ کو افغانستان کے لیے استعمال کرتا ہے۔ سمن غنی نے کہا ، حکومت کا ڈھانچہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے ، لیکن ہمارے تجربے کی بنیاد پر ، اس میں مکمل اسلامی قیادت ہونی چاہیے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس میں شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے لوگوں سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ طالبان نے کہا ہے کہ اسے ٹی وی چینل پر ایک خاتون نیوز پریزینٹر کی جانب سے دکھائی جانے والی خبروں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹولو نیوز کی ایک خاتون نیوز پریزینٹر کو خبر پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ در اصل ، طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد سے ملک میں خوف کا ماحول ہے۔ گھبرائے ہوئے لوگ طالبان کے کسی بھی جھانسے میں آنے کے بجائے ملک چھوڑنے اور بھاگنے کا سوچ رہے ہیں۔قابل غور ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے افغان شہریوں پر قہر برپانا شروع کر دیاتھا۔

انہوں نے چند دنوں میں ایک کے بعد ایک صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔ آخر میں ، صرف کابل افغان حکومت کے کنٹرول میں آخری بڑا شہر بچا،لیکن اتوار کو طالبان حکمرانوں نے شہر پر دھاوا بول دیا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔اس طرح طالبان حکمرانوں نے افغان حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ان سے بچنے کے لیے صدر اشرف غنی کو بھی اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ تب سے پورے افغانستان میں طالبان کی دہشت ہے۔ افغان شہری ان سے بچنے کے لیے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کر رہے۔ متاثرہ افراد کے ملک سے فرار ہونے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ملک سے باہر جانے کا راستہ تلاش کرنے والے ہزاروں لوگ آج کابل ایئرپورٹ پر جمع ہوئے اور اسے بلاک کر دیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں افغان فوجی جہاز میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ، ان میں سے کچھ تو جہاز کے پہیوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔