UK to launch resettlement scheme for vulnerable Afghans

لندن:(اے یو ایس)برطانیہ نے ان افغان شہریوں کے لیے نئی باز آباد کاری سکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔ نئی باز آباد کاری سکیم میں خواتین اور لڑکیوں کی خاص طور پر مدد کی جائے گی اور اسا سکیم کا اعلان برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کریں گے۔برطانوی فوجی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افراتفری کے حالات میں کام کر رہے ہیں تاکہ برطانیہ کے شہریوں اور ان افغان شہریوں کو نکالنے میں مدد کی جا سکے جنہوں نے برطانوی حکومت کے لیے کام کیا۔بورس جانسن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور برطانوی افواج کے انخلا کے بعد بین الاقوامی شراکت داروں کو وہاں ایک انسانی بحران کو روکنے میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔جانسن کے ڈاو¿ننگ اسٹریٹ آفس کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ ’افغانستان میں برطانیہ کی ٹیم 24 گھنٹے ناقابل یقین حد تک مشکل حالات میں کام کر رہی ہے تاکہ برطانوی شہریوں کی مدد کی جا سکے۔‘برطانیہ کی حکومت کو ماضی میں اپوزیشن کے سیاست دانوں، امدادی اداروں اور عدلیہ کے کچھ اراکین تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کیونکہ یورپ میں مہاجرین کے پہلے بحرانوں کے دوران بھی وہاں کافی پناہ گزین آباد ہو گئے تھے۔

وزیراعظم جانسن کے دفتر نے بتایا کہ حکومت اب توقع کر رہی ہے کہ وہ افغانستان کے لیے نئی آباد کاری کی سکیم کے منصوبے مرتب کرے گی جو کہ برطانیہ کے اسائلم کے نظام سے الگ ہوں گے۔ یہ ممکنہ طور پر اس پروگرام جیسا ہوگا جو شامی پناہ گزین کیمپوں سے برطانیہ لائے گئے افراد کے لیے شروع کیا گیا تھا۔حکومتی ترجمان نے کہا کہ جانسن افغانستان میں ممکنہ انسانی بحران کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو اکٹھا کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔جانسن آئندہ دنوں میں گروپ آف سیون نیشنز کے رہنماو¿ں کی ایک ورچوئل میٹنگ کی میزبانی کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تاکہ افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات کا سبب بننے سے کیسے روکا جائے اور وہاں کے لوگوں کی مدد کیسے کی جائے۔واضح رہے کہ اتوار کو طالبان کی جانب سے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد سے ہزاروں افغان خاندان ملک چھوڑنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ کابل ایئر پورٹ پر گزشتہ دو روز سے افراتفری کی کیفیت ہے۔ امریکی افواج کی بڑی تعداد ایئرپورٹ کی سکیورٹی پر مامور ہے اور امریکہ کی ترجیح ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنے شہریوں کو وطن منتقل کر لے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کابل کا اقتدار سنبھالنے والے طالبان کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کی پناہ گاہ نہ بننے دیا جائے۔ انہوں نے مغربی قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گرد قوتوں کو پنپنے نہ دیں۔ڈومینیک راب نے برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کو طالبان کے ساتھ تعلقات میں حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہو گا اور افغانستان کے نئے حکمرانوں پر نظر رکھنا ہوگی۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا ” طالبان کے لئے ہمارا پیغام یہی ہے کہ افغانستان سے مغرب پر دہشت گرد حملے نہیں ہونے چاہئیں ، ہم نے 20 سال محنت کر کے یہ یقینی بنایا ہے کہ مغربی ممالک محفوظ رہ سکیں۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ “ہم سفارتی و معاشی پابندیوں سمیت تمام ممکنہ اقدام اٹھانے کو تیار ہیں جن سے ہم طالبان سے اپنی بات منوا سکیں اور میں حقیقت پسند رہتے ہوئے طالبان حکومت پر مثبت اثر ڈالنا چاہتا ہوں۔”اس سوال کے جواب میں کہ کیا طالبان غیر منظم جتھا ہیں؟ راب کا کہنا تھا کہ “میں اس نقطہ نظر سے اختلاف نہیں رکھتا مگر اب اقتدار ان کے پاس ہے اور ہمیں اس حقیقت سے نمٹنا ہوگا۔ ہمیں اس امر کو دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ نئی حکومت کو قابو میں کر سکیں گے یا نہیں؟