U.S. probing deaths at plane takeoff in Kabul

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکی فضائیہ نے کہا ہے کہ ’وہ ان انسانی اعضا کے متعلق چھان بین کر رہی ہے جو افغانستان کے دارالحکومت کابل سے اڑنے والے 17-سی طیاروں میں سے ایک کے پہیے کے کنارے میں پائے گئے تھے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق رواں ہفتے کے شروع میں سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں کابل چھوڑنے کے لیے بے تاب افغان شہریوں کو سی-17 طیارے کی طرف بھاگتے اور اس کے ساتھ لپٹتے ہوئے دیکھا گیا۔ایک ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں دو افراد کابل سے اڑان بھرنے والے اس فوجی طیارے سے گرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔گذشتہ اتوار کے روز امریکی ایئر فورس کا سی-17 گولڈ ماسٹر طیارہ ساز و سامان لے کر حامد کرزئی انٹرنیشنل پر اترا تو ابھی وہ سامان اتار بھی نہ پایا تھا کہ ایئرپورٹ سکیورٹی کی خلاف ورزی کرکے ایئرپورٹ کے اس علاقے میں موجود سینکڑوں افغان شہریوں نے طیارے کو گھیر لیا۔

امریکی فضائیہ کے مطابق اطراف میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے باعث سی -17 کے عملے نے جلد سے جلد ایئرفیلڈ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔‘بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فضائیہ کا خصوصی تفتیشی دفتر طیارے اور ’انسانی جانوں کے ضیاع‘ کے حوالے سے معلومات کا جائزہ لے رہا ہے۔‘خیال رہے کہ کابل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے امریکی طیارے سی-17 میں 640 افغان شہریوں کے سفر کی تصویر دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔افغان نیوز میڈیا سے ریکارڈ کی گئی مذکورہ واقعے کی ہولناک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے اور اس ہولناک منظر میں اڑان بھرتے امریکی طیارے سے پ±رامید افغانیوں کو لٹکتے دیکھا جاسکتا ہے۔امریکا کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے گزشتہ روز ایک بریفنگ میں کہا کہ ‘ہم سب ان پیش رفتوں کی انسانی قیمت کا تعین کررہے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے کابل ایئرپورٹ سے موصول ہونے والی تصاویر دل دہلا دینے والی ہیں۔ واقعہ یوں بتایا جاتا ہے کہ 16 اگست کی صبح گرے ایئر فورس کا طیارہ رن وے پر پہنچا تھا، جس میں امریکی بحریہ اور سپاہیوں کے لیے آلات اور دیگر ساز و سامان تھا تاکہ وہ ایئرپورٹ کو محفوظ بناسکیں اور ہزاروں امریکیوں اور افغانیوں کے انخلا میں مدد کرسکیں۔طیارے کے رن وے پر پہنچنے کے بعد جیسے ہی اس کے ریمپ کو کھولا گیا، سیکڑوں یا شاید ہزاروں افغان شہری تیزی سے آگے بڑھے جنہیں دیکھ کر مختصر عملے کو خطرہ محسوس ہوا۔

طیارے کے عملے کو معلوم تھا کہ ایک رات قبل کیا ہوا تھا اور پیر کی صبح لوگوں کی بڑی تعداد ایئرپورٹ پر پروازوں میں سوار ہورہی تھی۔عہدیداروں نے بتایا کہ عملے کے ارکان کو اپنے تحفط کا خوف تھا اور انہوں نے طیارے میں واپس چڑھے اور سامان کی اَن لوڈنگ ختم کرنے سے قبل ہی لوڈنگ ریمپ کو بند کردیا۔انہوں نے کہا کہ جس کے بعد افغان شہری طیارے کے پروں اور پہیوں سے لٹک گئے لیکن عملے کو اس کا علم نہ تھا۔عملے نے امریکی فوجی اہلکاروں کے زیر انتظام ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا جنہوں نے طیارے کو ٹیک آف کے لیے کلیئر کیا اور رن وے پر چند منٹ رہنے کے بعد طیارے نے اڑان بھرلی تھی۔طیارے پر لٹکے ہوئے لوگوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے پائلٹس نے پہلے آہستہ آہستہ اڑان بھری، ملٹری ہمویز لوگوں کو طیارے سے اتارنے اور دور لے جانے کے لیے آگے بڑھیں، 2 اپاچی ہیلی کاپٹر گن شپ نے کم بلندی پر اڑان بھر کر لوگوں کو ڈرا کر طیارے سے دور کرنے کی کوشش کی۔تاہم کچھ منٹ بعد پائلٹ اور معاون پائلٹ کو محسوس ہوا کہ کوئی سنگین مسئلہ ہے کیونکہ لینڈنگ گیئر مکمل طور پر بند نہیں ہوپارہے تھے، انہوں نے عملے کے ایک رکن کو چھوٹے سے پورتھول کے ذریعے نیچے دیکھنے کے لیے بھیجا جس سے وہ طیارے کے پہیے میں ممکنہ مسائل کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں۔اور اس وقت عملے نے ایک غیر متعین تعداد میں افغانیوں کی باقیات دیکھیں جو پہیے میں آگئی تھیں جنہیں بظاہر لینڈنگ گیئر نے کچل دیا تھا۔