Outpouring of anger after woman assaulted by over 400 men

اسلام آباد : (اے یو ایس ) پاکستان کے سوشل میڈیا پر منگل کو لاہور میں واقع مینارِ پاکستان میں خاتون کو ہراساں کرنے کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک میں خواتین کے تحفظ اور تشدد سے متعلق بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس بحث میں پاکستان کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے انداز پر اس پر بات کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مینارِ پاکستان پر ہجوم خاتون کو ہراساں کر رہا ہے۔

ویڈیو میں بے شمار مردوں کو خاتون پر حملہ اور دست درازی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔مینارِ پاکستان میں خاتون کو ہراساں کرنے کی ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے جس میں متاثرہ خاتون نے 300 سے 400 کے قریب افراد کی جانب سے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون 14 اگست کو اپنے چھ ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں مینار کے قریب یوٹیوب کی ویڈیو بنا رہی تھی کہ وہاں موجود 300 سے 400 کے قریب افراد ان پر حملہ آور ہو گئے۔ایف آئی آر میں خاتون نے نا معلوم افراد پر موبائل فون، سونے کے ٹاپس چھیننے اور زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔

اس واقعے کے بعد مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ‘مینارِ پاکستان’، ‘لاہور انسیڈینٹ’، ‘400 مرد’ اور اس واقعے سے متعلق دیگر ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ہدایت کی ہے کہ ویڈیو فوٹیجز کے ذریعے واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کر کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔خاتون کو ہراساں کرنے کے اس واقعے پر فن کار، سیاست دان، قانون دان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ “مینارِ پاکستان میں ایک ہجوم کی جانب سے خاتون پر حملے پر ہر پاکستانی کو شرمندہ ہونا چاہیے۔”انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں موجود خرابی کی عکاسی کرتا ہے اور اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔