Saudi Arabia stands with Afghan people: Cabinet

ریاض: (اے یو ایس ) سعودی عرب کابل میں طالبان کے کنٹرول کے بعد افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔سعودی وزارتی کونسل کی جانب سے افغان عوام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے۔کونسل کا منگل کے روز خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزکے زیرصدارت اجلاس ہوا اور اس میں دیگر امور کے علاوہ افغانستان کی تازہ صورت حال پرغورکیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب افغانستان کی تازہ صورت حال پر نظررکھے ہوئے ہے،اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور اس کو امید ہے کہ اس ملک میں بہت جلد صورت حال مستحکم ہوجائے گی۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں طالبان اور تمام افغان جماعتوں پر زوردیا تھا کہ وہ ملک میں عوام کے جان ومال کا تحفظ کریں۔وزارتِ خارجہ نے طالبان کے افغان دارالحکومت کابل میں داخلے اور کنٹرول کے ایک روز بعد سوموار کو ٹویٹرپر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ”سعودی عرب کسی بیرونی مداخلت کے بغیر افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔“اس بیان میں بھی اس امید کا اظہار کیا گیا تھا کہ افغانستان میں صورت حال جلد مستحکم ہوجائے گی۔طالبان نے اتوار کو دارالحکومت کابل سمیت ملک کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور افغان صدر اشرف غنی اقتدار چھوڑ کرکابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بذریعہ طیارہ بیرون ملک چلے گئے تھے۔ان کی روانگی کے بعد طالبان کابل میں ایوان صدر میں داخل ہوگئے تھے۔

تاہم انھوں نے ابھی اپنی نئی حکومت کا اعلان نہیں کیا ہے اور وہ اپنے زیرقبضہ علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط بنانے اور امن وامان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔دریں اثنا طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی نیوزکانفرنس میں تمام افغان شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے جان ومال کا تحفظ کیا جائے گا۔انھوں نے اعلان کیا کہ جو کوئی بھی ماضی میں غیرملکی فورسز کے ساتھ ترجمان کے طور پر کام کرتارہا ہے یا ان کے ساتھ کسی بھی طرح تعاون کرتارہا ہے،ان سب کو معافی دے دی گئی ہے اور انھیں کہیں ملک سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے سابق حکومت اور غیرملکیوں کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے عام معافی کااعلان اور افغانستان کو محفوظ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے کوئی انتقام نہیں لیا۔

اب خواہ کسی نے سابق حکومت یا غیرملکی حکومتوں یا افواج کے ساتھ مل کر کام کیا ہے، توان سب کے لیے عام معافی ہے۔انھوں نے بالخصوص ماضی میں افغانستان میں امریکا کی مسلح افواج کے ساتھ ترجمان کے طورپر کام کرنے والے افغانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ”کوئی بھی آپ کے دروازوں پر یہ پوچھنے کے لیے نہیں جائے گا کہ آپ نے غیرملکیوں کی مدد کیوں کی تھی؟“ذبیح اللہ مجاہدنے خواتین کے حقوق کے احترام کا وعدہ کیا اور کہا کہ انھیں اسلامی شریعت کے اصولوں کے تحت تمام حقوق حاصل ہوں گے۔انھوں نے یہ وضاحت طالبان کے پہلے دورحکومت میں خواتین کی زندگیوں،تعلیم اور حقوق پر عاید کردہ پابندیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے تناظر میں کی ہے۔تب خواتین پر کسی مرد رشتہ دار کے بغیر گھروں سے باہر جانے پر پابندی عاید تھی۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ طالبان نجی میڈیا کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں لیکن صحافیوں کو بھی افغانستان کی قومی اقدار کے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ افغانستان کی سرزمین کو دوسری اقوام کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔