Taliban declare formation of Islamic Emirate of Afghanistan

کابل: افغانستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے کئی روز بعد طالبان نے ملک کا نام بدل کر ”دا افغانستان اسلامی امارات“ رکھ دیا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ طالبان نے برطانوی سامراج کے طوق غلامی سے نجات حاصل کرنے کی 102ویں سالگرہ کے موقع پر اسلامی امارات کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے ’افغانستان اسلامی امارات‘ کے جھنڈے اور سرکاری نشان کی تصویر بھی ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر جاری کی ۔

مجاہد نے منگل کے روز اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ نئی حکومت اس حکومت سے قطعاً مختلف ہے جو 1996سے2001تک مسند اقتدار پر براجمان رہی تھی۔ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ طالبان کسی سے مخاصمت بھی نہیں رکھیں گے۔ نہ وہ کسی کے دشمن بنیں گے اور نہ کسی کے خلاف جارحانہ رویہ رکھیں گے۔ علاوہ ازیں شریعت کی رو سے خواتین کو جو حقوق حاصل ہیں وہ انہیں دیے جائیں گے۔

ایک دیگر ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘امارات اسلامی تمام ممالک کے ساتھ بہتر سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کسی ملک کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں جھوٹی ہیں جسے ہم مسترد کرتے ہیں’۔ہم کسی سے ٹکراؤ نہیں چاہتے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج تمام عداوتیں و رنجشیں ختم ہو گئیں۔ ہم پر امن رہنا چاہتے ہیں اور داخلی یا خارجی دشمن نہیں بنانا چاہتے۔