U.S. probing deaths at plane takeoff in Kabul

واشنگٹن: (اے یو ایس )امریکی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس کا خصوصی تحقیقاتی دفتر 16اگست بروز دو شنبہ رونما ہونے والے اس واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں ملک چھوڑنے کو بیتاب پریشان حال ہزاروں افغان شہریوں کے سی17-مال بردار طیارے میں داخل ہونے اور اس کے اڑان بھرتے وقت اس کے پہیوں اور دیگر باہری سہارے پکڑ کر ملک سے نکلنے کی کوشش کرنے کے دوران کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وائس آف امریکہ کی نامہ نگار کارلا بیب نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ میں ایئر فورس کے محکمے کا خصوصی چھان بین کا دفتر او ایس آئی یا آفس آف سپیشل انویسٹی گیشن، اس واقعے کی تمام اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے، جن میں 15 اگست کو کابل کے ائیرپورٹ سے سی-17 طیارے کی روانگی اور عام شہریوں کی ہلاکت کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور جس کی ویڈیو اور سوشل میڈیا پر پوسٹس بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ آن لائن ویڈیوز اور خبروں میں جہاز کی روانگی کے وقت لوگوں کو گرتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی طیارہ سی-17 قطر کے العدید ایئرپورٹ پر اترا تو اس کے پہیوں میں انسانی باقیات بھی پائی گئیں۔او ایس آئی کے مطابق یہ معاملہ امریکی فوجی طیارے سے لوگوں کی ہلاکت کا ہے اور محکمہ اس المناک حادثے کے حقائق تک پہنچنے کے لئے امریکی ایئرفورس کی ایئر موبیلیٹی کمانڈ اور اپنے بین الاقوامی رفقا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ محکمے نے ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔گزشتہ اتوار کے روز امریکی ایئر فورس کا سی-17 گولڈ ماسٹر طیارہ ساز و سامان لے کر حامد کرزئی انٹرنیشنل پر اترا تو ابھی وہ سامان اتار بھی نہ پایا تھا کہ ایئرپورٹ سیکیورٹی کی خلاف ورزی کرکے ایئرپورٹ کے اس علاقے میں موجود سینکڑوں افغان شہریوں نے طیارے کو گھیر لیا۔چنانچہ طیارے کے گرد سیکیورٹی کی غیر یقینی صورتِ حال کی وجہ سے عملے نے طیارے کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا اور بعد میں فضا میں طیارے سے کچھ گرتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایسے افراد ہو سکتے ہیں، جو طیارے کے بیرونی حصوں میں چھپ کر سفر کرنا چاہتے تھے۔

قبل ازیں امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے امریکیوں کے انخلا کی کاروائیوں کے بارے میں ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے وہاں کی صورتِ حال معلوم کرنے کے لئے ان فوجی لیڈروں سے بات کی ہے جو ایئرپورٹ کو سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کابل سے نکلنے والے سویلینز کی محفوظ منتقلی اور انخلا کے کام میں مصروف پروازوں کے لئے ائیر پورٹ کی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایئرپورٹ کا ایئر فیلڈ محفوظ ہے اور اسے سویلین پروازوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ جبکہ امریکی فوجی اور محکمہ خارجہ کے اہل کارمل جل کر ایئر پورٹ کی حفاظت کو یقینی اور انخلا کی کارروائی کو محفوظ بنا رہے ہیں۔جنرل میکینزی نے مزید کہا کہ اتوار کے روز دوحہ میں طالبان کے سینئیر لیڈروں سے میٹنگز میں انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں اور شہریوں کے انخلا کے کام میں مداخلت نہ کریں۔ اور اگر اس دوران کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی شہریوں اور اپنے رفقاءکی حفاظت امریکہ کی اولین ترجیح ہے اور امریکی سفارت خانہ ان کے انخلا اور خطرے میں گھرے افغان شہریوں کو خصوصی ویزے جاری کر نے کا کام کر رہا ہے۔مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ شہر میں خوف اور کنفیوڑن ہے جب کہ ایئر پورٹ پر لوگوں کا رش ہے۔