Afghan people living in an atmosphere of fear under the Taliban rule

کابل: افغانستان میں ایک بار پھر طالبان کی حکمرانی لوٹ آئی ہے۔ جیسے ہی اقتدار ہاتھ میں آیا ، طالبان نے اپنے طریقے سے ملک کو چلانا شروع کر دیا۔ سکیورٹی کی یقین دہانی کے باوجود لوگ افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔ طالبان حکومت کا خوف ایسا ہے کہ لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک چھوڑ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز سے سمجھیں کہ افغانستان میں کیا صورتحال ہے اور یہاں خوف کا ماحول کیوں ہے۔

طالبان جنگجو افغانستان کے دارالحکومت کابل کی سڑکوں پر اپنی دہشت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ائیر پورٹ کے ارد گرد موجود لوگوں کو ہٹانے کے لیے اندھا دھند فائرنگ کی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ امریکی فوج کے زیر کنٹرول کابل ہوائی اڈے میں داخل ہونے کے لیے بے چین ہیں۔

بچوں اور خواتین کو ائیرپورٹ کی بیرونی دیوار سے اندر لایا جا رہا ہے۔ امریکی فوجی بھی اس میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ کچھ فوجیوں سے گیٹ کھولنے کی التجا کرتے بھی دکھ رہے ہیں۔ طالبان کی حکمرانی میں لوگوں کو کیا سزائیں دی جا رہی ہیں اس سے متعلق ویڈیوز بھی سامنے آرہی ہیں۔ یہاں لوگوں کو چوری کے الزام میں لوگوں کے منہ پر سیاہی پوتی جارہی ہے۔ سب کے سامنے ایک ملزم کے منہ میں جوتا ٹھونس دیا گیا ہے۔

طالبان کو خواتین کو حقوق دینے کی بات تو کرتا ہے ، لیکن سچائی کچھ اور ہی ہے۔ کابل میں طالبان کے داخل ہوتے ہی خواتین کی تصاویر والے پوسٹرز کو ہٹایا یا پھاڑ دیا گیا ہے یا ان پر سیاہی پوت دی گئی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں لوگ اس وقت کیسے ماحول میں رہنے کو مجبور ہیں۔