OIC warns against Afghanistan becoming terror haven

جدہ:(اے یو ایس ) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)نے مستقبل کی افغان قیادت اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کو اب کبھی بھی کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے یا اس کی سرزمین کو دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کے لیے استعمال نہیںکرنے دیا جائے گا۔اور نہ ہی کسی دہشت پسند تنظیم یا گروپ کو یہاں پیر جمانے دیے جائیں گے۔واضح ہو کہ افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے اتوار کے روزجدہ جنرل سیکریٹریٹ میں 57 رکنی او آئی سی میں مستقل مندوبین کی سطح پر ہنگامی اجلاس کا انعقاد ہوا یہ اجلاس سعودی عرب کی دعوت پر بلایا گیا تھا۔

قبل ازیں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے گذشتہ سوموار کو ایک بیان میں طالبان اور تمام افغان جماعتوں پر زور دیا تھا کہ وہ ملک میں عوام کے جان ومال کا تحفظ کریں۔وزارتِ خارجہ نے طالبان کے افغان دارالحکومت کابل میں داخلے اور کنٹرول کے ایک روز بعد سوموار کو ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ”سعودی عرب افغان عوام کے کسی بیرونی مداخلت کے بغیر انتخاب کے ساتھ کھڑا ہے۔“سعودی عرب نے افغانستان کے غیر مستحکم موجودہ حالات کے پیش نظر وہاں سے اپنے سفارتی مشن کے ارکان کو واپس بلا لیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کابل میں سفارت خانے کے تمام سفارتی عملے کے انخلا کی تصدیق کی ہے۔

مملکت کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل میں سعودی سفارت خانے کے تمام سفارت کاروں کو نکال لیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام سعودی سفارتکار سعودی عرب پہنچ گئے ہیں اور سب خیر وعافیت سے ہیں۔اسلامی ممالک کے اتحاد او آئی سی نے بھی اس سے قبل ایک بیان جاری کر کے افغانستان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ او آئی سی نے اپنے بیان میں سبھی فریقوں سے تشدد بند کرنے اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ او آئی سی نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔