A Future Afghan Govt 'Not Complete' Without Women: Koofi

کابل: افغانستا ن کی سابق خاتون ممبر پارلیمنٹ فوزیہ کوفی نے کہا ہے کہ مستقبل کی افغان حکومت کا ڈھانچہ خواتین کی شمولیت کے بغیر مکمل نہیں ہوگا۔کابل میں خواتین کے بغیر اجلاسوں کے انعقاد پر تنقید کرتے ہوئے محترمہ کوفی نے کہا کہ خواتین کو فیصلہ سازی میں شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں افغان خواتین کو پہلے سے زیادہ متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی آسانی سے ان کے حقوق انہیں نہیں دے گا ۔ انہیں اتحاد کرنا پڑتا ہے۔ انہیں اپنی موجودگی کی ضمانت دینا ہوگیاور یہ ہر گز بھی قابل قبول نہ ہوگا کہ وہ اپنے گھروں میں ایک گوشے میں بیٹھ کر صورت حال پر نظر رکھیں۔

کابل میں کچھ خواتین یہ کہتے ہوئے کہ خواتین کا بھی مردوں کی مانند ملک کے تمام معاملات میں شامل کیا جانا چاہئے ،طالبان پر زور ڈال رہی ہیں کہ وہ پچھلے 20 سالوں کی کامیابیوں کا احترام کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ مردوں کی طرح خواتین کو بھی ملک کے تمام امور میں شریک ہونا چاہیے۔

طالبان پہلے کہہ چکے ہیں کہ خواتین اسلامی قانون کے تحت تعلیم حاصل کر سکتی ہیں اور کام کر سکتی ہیں۔دریں اثنا ، خواتین کے حقوق کے کارکنوں نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 20 سالوں کی کامیابیوں کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ خواتین بھی مردوں کی طرح طالبان کے ساتھ مل کر ملک کی بہتری کے لیے کام کر سکتی ہیں۔