Afghanistan: At last Taliban showed their real face about women

کابل: طالبان کے ظلم و ستم اور جنگی جرائم کی طویل داستان کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد وہاں ہونے والے واقعات نے پوری دنیا کو راتوں کی نیند اڑا دی ہیں۔ ایک خاتون اینکر نے دنیا کو طالبان کا اصلی چہرہ دکھایا ہے ، جو خواتین کو ان کے حقوق دینے کی بات کرتی ہیں۔

ریڈیو ٹیلی ویژن افغانستان کے لیے کابل میں کام کرنے والی ایک نیوز اینکر نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اسے کام کرنے سے روکا گیا۔شبنم دوران نے بتایا کہ جب وہ کام کرنے کے لیے دفتر پہنچی تو طالبان جنگجوں نے اسے یہ کہتے ہوئے وہاں سے گھر چھوڑنے کو کہا کہ وہ عورت ہے۔

جب وجہ پوچھی گئی تو طالبان جنگجوں نے کہا کہ اب قانون بدل گیا ہے اور خواتین کو آر ٹی اے میں کام کرنے کی آزادی نہیں ہے۔شبنم نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوئی تھی جب طالبان نے اعلان کیا کہ خواتین اور بچے سکول جا کر کام کر سکیں گے ، لیکن اگلے ہی دن ان کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا۔ اینکر نے مزید بتایا کہ مرد ساتھی کو کام پر جانے کی اجازت دی گئی لیکن اسے یہ کہہ کر باہر نکال دیا گیا کہ تم لڑکی ہو ، اپنے گھر جاو¿۔