Entrepreneurs played a vital role in Country's development

شان عالم

بہت تیزی سے ہو رہے عالمی تبدیلی میں آج کاروباری زندگی انسانی زندگی کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انٹرپرینیورشپ ہندوستان جیسی معیشت کی تبدیلی کے لیے اہم کام کر سکتی ہے۔ ملک میں انسانی وسائل ، نوجوان آبادی ، خام مال اور سرکاری پالیسی اور اسکیموں کی دستیابی کو بڑھانے میں یقینی طور پر معاون ثابت ہوگی۔ پوراملک میں ا سکل انڈیا ، اسٹارٹ اپ انڈیا ، اسٹینڈ اپ انڈیا اور میک ان انڈیا جیسے بہت سے اقدامات کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سے اظہار تشکر کرتاہے ، جنہوں نے ہندوستان کو ایک کاروباری مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے زمین ہموار کی ہے۔ یہ ملک میں بے روزگاری کے چیلنج کو کم کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انڈسٹری کے ایک اندازے کے مطابق اس وقت ہندوستان میں 53 ایسے اسٹارٹ اپ ہیں جن کی کل قیمت 1.4 لاکھ کروڑ روپے ہے۔

ہندوستانی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو عالمی سطح پر تیسرا بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام تسلیم کیا گیا ہے۔ سینٹر فار انٹرنل ٹریڈ اینڈ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ نے جولائی 2021 تک مجموعی طور پر 52391 اداروں کو اسٹارٹ اپ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ جس میں 50000 سے زائد اسٹارٹ اپ کے ذریعے 5.7 لاکھ سے زیادہ نوکریاں پیدا کی گئی ہیں۔اس اسکیم کو زیادہ موثر بنانے کے لیے مرکزی حکومت نے 1200 سے زائدفالتو قوانین کو ختم کیا ہے ، ترقی یافتہ شعبوں میں براہ راست سرمایہ کاری کے لیے 87 قوانین میں نرمی کی گئی ہے اور تمام سرکاری عمل کو آن لائن کردیا گیا ہے۔ ملک میں کاروبار کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ دنیا کی از آف ڈوئنگ میں ہندوستان کی درجہ بندی میں گزشتہ 7 سالوں میں 142 سے 60 تک اچھال آنا اسی کا نتیجہ ہے۔

مقامی ، علاقائی اور قومی سطح پر لگارار بدلتی صنعت اور بازار کی رفتار کے ساتھ لوگوں کو روزگار کے اہل بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کی مضبوط ترقی میں ماہر اکریہ بل کا اہم کردار ہے۔ حالانکہ ہمارے پاس صرف 3.8 فیصد ماہر آبادی ہے جبکہ برطانیہ میں 68فیصد ہنر مندلوگ ہیں ، جرمنی میں 75فیصد ، جاپان میں 80فیصد اور جنوبی کوریا میں 96فیصد آبادی ہنرمندہے۔ ہمارے پاس لوگوں کو ہنر مند بنا کر زیادہ سے زیادہ آبادی کو فائدہ پہنچانے کا ایک بڑا موقع ہے۔ دنیا کی سب سے نوجوان آبادی بھارت میں ہی ہے۔ یہاں کل آبادی میں 65فیصد نوجوان ہیں۔ان نوجوانوں کو ماہر اور نیم ماہربنانا آتم نربھر بھا رت کے ٹارگیٹ کو حاصل کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔ آتم نربھر بھارت ابھیان کو سمت دینے میں پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا( پی ایم کے وی وائی )کو مشن موڈ میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے اس یوجنا کے تحت 2022 تک 40 کروڑ لوگوں کو ٹرینڈ کرنے کا ٹارگیٹ رکھا گیا ہے۔

یہ حقیقت میں خوشی کی بات ہے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020(این ای پی 2020-)میں 8ویں کلاس سے ہی اسکولوں میں پیشہ وارانہ تعلیم اور عملی تعلیم پر کافی زور دیا گیا ہے۔ بچوں کو اسکول سطح سے ہی ہنر مند بنانے کی سخت ضرورت ہے۔ تاکہ 12ویں کی تعلیم پوری کرنے کے بعد ان کے پاس نوکری پانے یا آتم نربھر ہونے کی مہارت ہو۔ اس سے ان کے روزگار کی راہ آسان ہو گی۔ ساتھ ہی آتم نربھر بھارت کے ٹارگیٹ کی سمت میں ہماری کوششیں قابل قدر ہوں گی۔ملک میں اب تک تعلیمی اداروں میں ایک تہائی وقت میں ہی عملی تعلیم دی جارہی تھی جبکہ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت پڑھائی کے کل وقت کا دو تہائی حصہ عملی تعلیم دینے کے لئے رکھا گیا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی ، ای جدید تکنیکوں کے پڑھتے ای مارکیٹنگ ، ای کامرس ، کووڈ 19کی وجہ سے آن لائن پلیٹ فارم کے بڑھتے استعمال ، بک کیپنگ ، انکم ٹیکس رپورٹ بھرنا ، ریکارڈ کیپنگ اور جی ایس ٹی سے متعلق مختلف دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے سبھی طرح کے انسانی وسائل کو مہارت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کے وقت میں ڈیجیٹل سکل ، سوشل میڈیا ، ٹیلی ویڑن و موبائل رپیئر ، الیکٹرانک ، پلمبر ، ٹورسٹ گائیڈ ٹوئیٹر ، انسٹاگرام ،ویڑولائزیشن وغیرہ نے روزگار ، سو روزگار اور روزگار پیدا کرنے کے جو بے شمار امکانات پیدا کئے ہیں۔ موجودہ وقت میں ان کا استحصال کرناضروری ہے۔مالی خواندگی کے اس دور میں جب زیادہ تر کام آن لائن ہوگئے ہیں۔ ان شعبوں میں نوکریوں کے بہت سے مواقع ہیں۔ دیہی سیاحت ، فوڈ پروسیسنگ ، زراعت ، ٹورازم ، مہمان نوازی ، بائیو ٹیکنالوجی ، باغبانی ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں آنے والے وقت میں جو مواقع پیدا ہوں گے ان کیلئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔