Taliban warns of ‘consequences’ if US delays withdrawal

دوحہ(قطر): طالبان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یا برطانیہ افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا میں لیت و لعل سے کام لیا اور اس میں تاخیر کی تو اس کا انہیں بھرپور خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ دوحہ میں طالبانی وفد کے ایک رکن اورگروپ کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اور برطانیہ یہاں سے انخلا کے لیے مزید وقت چاہتے ہیں تو ہمارا جواب نہ ہے اور ہمارا جواب سننے کے بعد بھی اگر ان کی فوجیں سرزمین افغانستان پر موجود رہیں تو انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ” قبضہ میں توسیع“ ہے اور یہ اشتعال پیدا کرنے والا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہمارے درمیان عدم اعتماد جنم لے گا، اگر وہ یہاں قبضہ جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں تو اس سے ایک خطرناک ردعمل پیدا ہو گا۔

طالبان ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے موقع سامنے آیا ہے جب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر جو بائیڈن سے درخواست کریں گے کہ وہ اپنی خودساختہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع کریں۔رواں ہفتے افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے جی-7 کے ہنگامی اجلاس میں بورس جانسن امریکی صدر سے فوج کے افغانستان میں قیام میں توسیع کی درخواست کریں گے۔