Taliban may become dangerous for China and pakistan

واشنگٹن: 15 اگست کو طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے ہی چین کے ساتھ رابطے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ دونوںہی القاعدہ اور دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) جیسے دہشت گرد گروہوں کی واپسی کے خدشات کے باوجود افغانستان میں 20 سالوں سے چل رہی جنگ کے بعد امریکہ کی شکست پر خوش ہیں۔ حالانکہ پاکستان حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایسا افغانستان کسی کے حق میں نہیں ہے ، لیکن پاکستانی حکومت یہاں طالبان کی واپسی سے مکمل طور پر بے فکر دکھائی دیتی ہے۔

ماہرین نے پاکستان اور چین کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ جہاں پاکستان اپنے پڑوسی ملک میں امن سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے وہیں اسے تنازعات اور عدم استحکام سے بھی اس کے پاس کھونے کے لئے سب سے زیادہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر استحکام کے لحاظ سے صرف اس صورت میں فائدہ اٹھائے گا جب طالبان مؤثر طریقے سے حکومت کرنے ، دوسرے نسلی گروہوں کو ایڈجسٹ کرنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے قابل ہو گا۔

لودھی کا کہتی ہیں کہ اگر طالبان ایسا نہیں کرپاتا ہے تو افغانستان کو ایک غیر یقینی اور عارضی مستقبل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ چینی تجزیہ کاروں نے بھی چین کے لیے اسی طرح کی وارننگ جاری کی ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے سابق چیف ایڈیٹر وانگ جیانگ وے نے لکھا کہ امریکہ کی طویل ترین جنگ ایک تباہ کن ناکامی کے ساتھ ختم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چین کو ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز کرنا ہوگا جس کی وجہ سے اسے، برطانیہ ، سوویت یونین اور اب امریکہ کی طرح افغانستان میں جھٹکا جھیلنا پڑے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سے چین کو نامکمل اسٹریٹجک فتح ملی ہے۔