Taliban must ensure equal role for all,says Shia clerics

کابل: افغانستان کی شیعہ علما کونسل نے منگل کے روز اپنے ایک اجلاس کے بعدکی گئی پریس کانفرنس میں طالبان کو تلقین کی کہ وہ بلا لحاظ نسل اور مذہب ومسلک سب کے ساتھ یکساں، منصفانہ اور مساوی سلوک کریں ۔کونسل کے رہنماؤں نے کہا کہ افغانستا ن کی مستقبل کی حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک سازی میں تمام مذاہب و نسلوں کی حصہ داری یقینی بنائے۔اس اجلاس میں کچھ سیاستدانوں ، مذہبی اسکالروں اور یونیورسٹی کے پروفیسرز نے شرکت کی ، شیعہ علما کونسل کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان کو ایک اسلامی فوج قائم کرنی چاہیے جس میں تمام نسلی گروہ کی نمائندگی ہو ۔

کونسل نے منگل کو ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے منعقد اس پریس کانفرنس میں شرکاءنے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام ، ان کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کابھی مطالبہ کیا۔ کونسل نے اپنا 18نکاتی اعلامیہ بھی جاری کیا۔ جس میں کونسل کے ایک رکن سید حسین علیمی بلخی کے مطابق افغانستان شیعہ علماءکونسل کے عملی فریم ورک کی وضاحت کی گئی ہے۔

طالبان نے 18 نکاتی اعلامیہ میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ طالبان ملک کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ کونسل کا یہ بھی اصرار ہے کہ طالبان کو گزشتہ 20 سالوں کی تمام کامیابیوں کو مدنظر رکھنا اور اس مدت کی حصولیابیکے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے تاکہ تمام نسلی گروہوں کو تمام سرکاری اور نجی اداروں میں مساوی اور یکساں طور پر کام کر نے کا موقع مل سکے۔

ملک کے شیعہ علما میں سے ایک آیت اللہ صالحی مودرس نے کہا کہ اہل تشیع جنگ یا تشدد کرنے والے لوگ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ جنگ جدال میں یقین رکھتے ہیں بلکہ وہ صرف اور صرف قیام امن کے قائل ہیں اور ملک میں صرف امن و امان چاہتے ہیںجیسا کہ پیغمبر اسلام ﷺنے کہا کہ اسلام کی بنیاد اتحاد ہے ۔ایک دیگر شیعہ مذہبی ا سکالر علی احمدی نے کہا کہ افغانستان کے تمام لوگ امن و سلامتی اور ایسی حکومت چاہتے ہیں جس میں افغانستان کے تمام لوگ شامل ہوں ۔