After Taliban returns Al Qaeda will reestablish a safe haven in Afghanistan to plot terrorism against US

واشنگٹن: افغانستان میں بہت تیزی سے بدلتی صورتحال کے مد نظر امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ القاعدہ کے پھر سے سر اٹھانے کے امکان سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اپنے ملک میں پرتشدد انتہا پسندی اور روس – چین کے سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ القاعدہ وہی گروہ ہے جس نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر حملہ کیا تھا ، جس کے بعد امریکی قیادت والی ناٹو افواج نے اسے ختم کرنے کے لیے افغانستان جنگ شروع کی تھی۔ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی اور طالبان کے ابھرنے پر ٹرمپ انتظامیہ میں انسداد دہشت گردی کے سینئر ڈائریکٹر رہے کرس کوسٹا نے کہا کہ میرے خیال میں القاعدہ کے پاس ایک موقع ہے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ (جو افغانستان میں ہوا)ایک ایسا واقعہ ہے جس نے ہر جگہ جہادیوں کو متاثر کیا۔قابل غور ہے کہ افغانستان میں 20 سالہ طویل جنگ میں القاعدہ کا بڑی حد تک صفایا ہوچکا ہے اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ گروپ 2001 میں امریکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تاہم ، امریکہ نے 20 سالوں میں نگرانی اور دیگر حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گروپ کی سینئر قیادت اب بھی افغانستان میں ہے اور اس کے ساتھ سینکڑوں مسلح افراد ہیں۔ امریکی ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پنٹاگان کے ترجمان جان کربی نے جمعہ کو تسلیم کیا کہ القاعدہ افغانستان میں موجود ہے ، لیکن اس کی تعداد کا سراغ لگانا مشکل ہے کیونکہ ملک کی خفیہ جانکاری جمع کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔

افغانستان میں دولت اسلامیہ فی العراق والشام (داعش) نے امریکیوں پر حملے کئے ہیں۔ طالبان نے ماضی میں داعش سے لڑائی لڑی ہے لیکن اب یہ تشویش ہے کہ افغانستان پھر سے کئی شدت پسندوں کی پناہ گاہ بن سکتا ہے جو امریکہ اور دیگر ممالک پر حملہ کر سکتے ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ کو دہشت گردی کے خطرے کا دور سے پتہ لگانے کی صلاحیت پیدا کرنی ہو گی۔ ان کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ بائیڈن نے واضح کر دیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو اس حد تک مضبوط کیا گیا ہے جو زمین پر موجودگی کے بغیر ہی خطرے کو کم کردے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی کو یقین نہیں ہے کہ القاعدہ کے پاس اس وقت امریکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ پچھلے ہفتے میں امریکہ میں کئی لوگوں نے افغانستان پر طالبان کے تیزی سے قبضے کے بعد بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات پر حیرت اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ دنیا نے دیکھا ہے کہ کس طرح لوگ کابل کے ہوائی اڈے پر ملک چھوڑنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور امریکی کمانڈر ان چیف حقیقت میں حالات کو سنبھالنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرتے ہی ہزاروں قیدیو ںکو رہا کر دیا ، جن میں سے بہت سے دہشت گرد ہیں۔ یہ خطرناک لوگ امریکہ اور مغرب پر حملہ کرنے کے لیے پرجوش ہیں، کیونکہ ہم نے گزشتہ دو دہائیوں میں مشرق وسطی میں ان کے مضبوط گڑھوں کو تباہ کرنے میں مدد کی ہے۔جبکہ صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے نکلنے کا کبھی بھی صحیح وقت نہیں ہوگا یہ سب سے خراب وقت ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ ان دہشت گردوں کے پاس ہماری جنوبی سرحد پر امریکہ میں گھسنے کے لئے ایک آسان راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ خطرناک جرائم پیشہ افراد ، گروہ کے ارکان اور کچھ دہشت گرد اس سال پہلے ہی ہمارے ملک میں داخل ہو چکے ہیں ، اور جلد ہی یہ دہشت گرد اپنی پسند کے امریکی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔