At least 25 deaths in last week during Kabul airport evacuation effort: Nato official

واشنگٹن: نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) کے ایک عہدیدار کے مطابق 15اگست کو طالبان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے نقل مکانی کرنے کی کوشش میں گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایر پورٹ اور اس کے اطراف واقع علاقے میں مچی افراتفری میں کم از کم25افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ باغیوں کے ہاتھوں ہلاک کیے جانے کے خوف سے ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں ہزاروں افغان باشندے کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمع ہو گئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر متاثرہ خواتین اور بچے تھے جو ہجوم اور فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ کابل ایئرپورٹ کے اردگرد زیادہ تر ہجوم ان لوگوں کا ہے جن کے پاس بیرون ملک جانے کے لیے کوئی قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔دس دن سے زائد گزرنے کے بعد بھی کابل ایئرپورٹ کے اردگرد افراتفری کم نہیں ہوئی۔جو لوگ بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان میں سے کچھ نے کئی دن اور راتیں چوک کے ارد گرد گزاریں۔

دفتر خارجہ کے ایک ملازم زبیر نے کہا کہ” تقریبا ً چھ سے سات افراد مر گئے۔۔۔ پیاسے اور دھوپ میں بھوکے۔“یک برطانوی سفارت خانے کے کارکن سمیرا نے کہا کہ پانچ دن سے ہم یہاں دستاویزات لے کر آئے ہوئے ہیں اور ہم نے برطانیہ کے ساتھ کام کیا ہے لیکن ہم دوبارہ جا رہے ہیں۔“تاہم شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ مختلف صوبوں سے ہزاروں افراد روزانہ کابل ائیرپورٹ پر آتے ہیں۔ان میں سے کچھ نے ملک چھوڑنے کی وجہ غربت اور بے روزگاری کو قرار دیا۔