China's nuclear tests killed 1.94 lakh people due to acute radiation exposure

بیجنگ: چین کا ظالمانہ چہرہ دنیا بھر میں ایک بار پھر اس وقت بے نقاب ہو گیا جب ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ چین نے گذشتہ برسوں میں جو45 جوہری تجربے کیے ان سے پیدا ہونے والی تابکاری کی وجہ سے تقریباًدو لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے 1964 اور 1996 کے درمیان تقریباً 45 کامیاب ایٹمی تجربات کیے ، جس میں شدید تابکاری کی وجہ سے 194000 افراد ہلاک ہوئے۔ دی نیشنل میگزین میں لکھتے ہوئے پیٹر سوسیو نے کہا ہے کہ اندازے بتاتے ہیں کہ شدید تابکاری کے باعث 194000 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 10 لاکھ سے زائد افراد کو لیوکیمیا ، کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین کے دنیا کی پانچویں ایٹمی طاقت بننے کے بعد جون 1967 میں پہلے ایٹمی تجربہ کے صرف 32 ماہ بعدپہلا تھرمونیوکلیئر تجربہ کیا۔ اس ایٹمی ٹیسٹ نے 3.3 میگا ٹن توانائی پیدا کی اور یہ توانائی ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے 200 گنا زیادہ تھی۔ حالانکہ جوہری تجربے کے سرکاری اعداد و شمار کم ہیں ، اس لئے ان اثرات کا بڑے پیمانے پر مطالعہ نہیں کیا گیا ہے۔ وہ سنکیانگ کا علاقہ جو دو کروڑ لوگوں کا گھر ہے ، وہاں ، تابکاری نے آبادی کو شدید متاثر کیا ہے۔

دی نیشنل انٹریسٹ کی رپورٹ کے مطابق تابکاری کی سطح کا مطالعہ کرنے والے ایک جاپانی محقق نے بتایا کہ سنکیانگ میں تابکاری کی مقدار 1986 میں چرنوبل جوہری ری ایکٹر کی سطح پر ناپی گئی مقدار سے زیادہ ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ریڈیو دھرمی دھول پورے علاقے میں پھیل گئی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ معلوم ہو کہ چین نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ 1964 میں لوپ نور – پروجیکٹ 596 میں کیا جسے امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کوڈ ورڈ چِک -1 کے نام سے جانتی ہے۔