Taliban bans co-education in universities in Herat

کابل::افغانستان میں خواتین کے حقوق کا احترام کرنے کی یقین دہانی کے چند دن بعد ، طالبان حکام نے لڑکوں اور لڑکیوں کو ہیرات صوبے میں سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں ایک ساتھ پڑھنے پر پابندی لگا تے ہوئے کہا کہ مخلوط تعلیم ہی معاشرے کی تباہی کا سبب اور تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ خامہ پریس نیوز ایجنسی نے ہفتے کے روز بتایاکہ یونیورسٹی کے پروفیسروں ، نجی اداروں کے مالکوں اور طالبان حکام کے درمیان ایک میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے افغانستان میں اچانک اقتدار پر قبضے کے بعد طالبان کا یہ پہلا ‘فتوی ہے۔ طالبان کا لمبے وقت سے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز پہلی بار عوام کے سامنے پیش ہوتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ طالبان اسلامی قانون کے تحت خواتین کے حقوق کا احترام کرے گا۔ یونیورسٹی کے پروفیسرز اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کے ساتھ تین گھنٹے کی ملاقات میں طالبان کے نمائندے اور افغانستان کے اعلی تعلیم کے
سربراہ ملا فرید نے کہا کہ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے اور لڑکے اور لڑکیوں کو ساتھ پڑھانا ختم کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین اساتذہ کو صرف طالبات کو پڑھانے کی اجازت ہوگی نہ کہ مرد طلبہ کو۔

فرید نے مخلوط تعلیم کو ‘معاشرے میں تمام برائیوں کی جڑ’ قرار دیا۔ ماہرین تعلیم نے کہا کہ اس فیصلے سے سرکاری یونیورسٹیاںمتاثر نہیں ہوں گی ، لیکن نجی اداروں کو جدوجہد کرنا پڑے گی ، جو پہلے ہی طالبات کی کمی سے دوچار ہیں۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ، ہرات میں نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں 40000 طلبا اور 2000 لیکچرار ہیں۔